Modi Govt Minister Resign: وزیراعظم مودی کے مشورے پر وزیر کا استعفیٰ منظور، صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے دی منظوری
مودی حکومت کی یونین کونسل آف منسٹرس کے حوالے سے ایک بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ ریلوے کے وزیرمملکت رونیت سنگھ بٹونے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی کے مشورے پر صدر دروپدی مرمو نے ان کا استعفیٰ فوری طورپرقبول کرلیا ہے۔
Do Not Share Rumours: ’’افواہیں شیئر نہ کریں‘‘ جنتر منتر احتجاج سے متعلق گمراہ کن معلومات پر دہلی پولیس کی سخت کارروائی کی وارننگ
دہلی پولیس نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے، جس میں ایک شخص خود کو دہلی پولیس کا سب انسپکٹر بتا رہا ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کے لیے استعفیٰ دینے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ پولیس کے مطابق دہلی پولیس کے ریکارڈ کی تصدیق سے ویڈیو میں کیے گئے دعوے سے مماثل کوئی سب انسپکٹر نہیں ملا۔ پولیس نے کہا کہ یہ ویڈیو جھوٹی اور گمراہ کن ہے اور بظاہر غلط معلومات پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے۔
ملک گیر احتجاج کے درمیان این ٹی اے میں بہت بڑی تبدیلی، 47 افسران برخاست، کچھ اور افسروں پر بھی گرے گی گاج، حکومت کی بڑی تیار
ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں بہت بڑی تبدیلی ہوگی۔ پورا ڈھانچہ بدل جائے گا۔ کئی لوگوں کو این ٹی اے سے نکالا جائے گا۔ حکومت نے بڑی تیاری کی ہے۔ ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پرایجنسی کے آؤٹ سورسنگ نظام میں بھی اصلاحات کی جائیں گی، تاکہ امتحانی عمل کو زیادہ محفوظ اورشفاف بنایا جا سکے۔
’’دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور طلبا کو پیٹنے والوں پر کارروائی کا مطالبہ…‘‘ پانچویں دن بھی ہنگامے کی نذر ہوگیا پارلیمنٹ
اپوزیشن نے نیٹ-یوجی پیپرلیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مسلسل پانچویں دن پارلیمنٹ ہنگامے کی نذرہوگیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ، وزیراعظم مودی کی معافی اورمجرموں کے خلاف کارروائی بحث کی شرائط ہیں۔ حکومت بحث چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جوابدہی کی بات کررہا ہے۔
Bihar Assembly Monsoon Session: ’طلبہ پر گولیاں چلانے والی حکومت…‘، بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن ایوان میں شدید ہنگامہ، کارروائی ملتوی
بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس کے آخری دن طلبہ پر لاٹھی چارج کے معاملے پر اپوزیشن کے شدید ہنگامے اور حکمراں اتحاد کے جوابی احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی صرف پانچ منٹ بعد ہی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
آندولن سے جھک گئی مرکزی حکومت؟ این ٹی اے میں اصلاحات سے متعلق آج رات 8 بجے بڑا اعلان ممکن
نیٹ امتحان پیپرلیک سے متعلق پورے ملک میں ہو رہے احتجاج سے حکومت بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔ اسی ضمن میں وزارت تعلیم آج رات 8 بجے بڑا اعلان کرنے والی ہے۔ اس سے طلبا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔
Akhilesh Yadav Criticism: اپنے ہی حامیوں کے دل و دماغ سے بھی اتر رہی ہے بی جے پی: اکھلیش یادو
سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی کے اپنے حامی بھی اب پارٹی کی کارکردگی سے مایوس اور شرمندہ محسوس کر رہے ہیں۔
Landslide Rocks hits Car in Lahaul-Spiti: ہماچل پردیش کے لاہول اسپیتی میں لینڈ سلائیڈنگ کا قہر، گاڑی پر چٹان گرنے سے 13 افراد کی موقع پر ہی دردناک موت، حادثے میں دو افراد زخمی
ہماچل پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر (قائد حزب اختلاف) جے رام ٹھاکر نے بھی حادثے پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی دردناک اور دل دہلا دینے والا حادثہ ہے اور اس غم کی گھڑی میں ان کی گہری ہمدردیاں مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
Honey Dubey Escape Case: گوالیار پولیس کی بڑی کارروائی! پیرول سے فرار ہونے والا ہنی دوبے گرفتار، حراست سے فرار پر 3 پولیس اہلکار معطل
گوالیار-گنا ٹرپل مرڈر کیس کے ملزم ہنی دوبے کو پیرول کی خلاف ورزی کے بعد پولیس نے گرفتار کیا، لیکن جیل منتقل کیے جانے کے دوران وہ بہوڑاپور تھانے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ تقریباً چار گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد ہنی دوبے کو ایک سنسان مکان سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ملزم کے پولیس حراست سے فرار ہونے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے محکمہ پولیس نے غفلت برتنے کے الزام میں تین پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
Uttarakhand Police Cop Sher Singh Resigns Joins CJP Protest: لیڈروں سے بہتر ہے بچوں کی حفاظت کروں‘، خاکی وردی چھوڑ کر اتراکھنڈ کے جوان شیر سنگھ پہنچ گئے جنتر منتر
اتراکھنڈ پولیس کے جوان شیر سنگھ نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر جنتر منتر پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی نیٹ مخالف تحریک کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر پہنچنے پر شیر سنگھ کا خیرمقدم کیا اور ان کے فیصلے کو طلبہ کے حق میں ایک اہم قدم قرار دیا۔





