مسلمانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور انصافی کا مقابلہ کرنے کے لئے 51 رکنی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان، تمام مذاہب کے رہنماوں کو ساتھ لے کر چلنے کا خاکہ تیار
آئی ایم سی آرکے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی کوششوں سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پرتبادلہ خیال کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں محمد ادیب کے علاوہ جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی، سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید، تلگانہ کے وزیراعلی کے مشیرمحمد علی شبیر، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان، مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد، درگاہ اجمیرکے گدی نشین سرورچشتی، سابق مرکزی وزیرعلی اشرف فاطمی، اے پی سی آر کے کنوینرندیم خان، آئی ایم سی آر کے جنرل سکریٹری محمد اعظم بیگ وغیرہ نے شرکت کی۔
Dharmendra Pradhan Resignation: دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر امت شاہ کا پہلا ردعمل، کہا- عہدے سے زیادہ ملک ضروری
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدے سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان پیڑھی اور طالب علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپر لیک کے خلاف سدھار کے لئے پابندعہد ہے۔
Dharmendra Pradhan Resignation: دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کے بعد جنتر منتر کا بدل گیا ماحول، دیکھیں ویڈیو
جنترمنترپرطلبا اورنوجوانوں کے ملک گیراحتجاج کے درمیان آج مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی، اپوزیشن، مختلف آرگنائزیشن کے ملک گیراحتجاج کے بعد یہ استعفیٰ دیا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کو اپنا استعفیٰ بھیجا، جس کے بعد احتجاج کررہے طلبا خوشی سے جھوم اٹھے۔ دھرمیندرپردھان نے سوشل …
Abhijeet Dipke Next protest: دہلی تو صرف جھانکی ہے… اب یہاں کریں گے احتجاج ابھیجیت دیپکے! ظاہر کر دیا آئندہ کا منصوبہ
دہلی میں اپنی تحریک کے اختتام کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اپنے اگلے مرحلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اشارہ دیا ہے کہ دہلی کے بعد ان کی مہم یہیں ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلا احتجاج کہاں ہوگا اور کن مسائل پر کیا جائے گا، اس کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
Rahul Gandhi on Dharmendra Pradhan Resignation: ’’بدعنوانی کی علامت ہیں، ان کو تو جانا ہی تھا‘‘، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر راہل گاندھی کا بڑا حملہ، تحریک سے متعلق کہی یہ بڑی بات
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘
دھرمیندرپردھان کا وزارت تعلیم سے استعفیٰ دینا تعلیمی احتساب اوراصلاحات کی جانب پہلا مقدم، جماعت اسلامی نے تعلیمی نظام کے لئے پُرامن جدوجہد سے متعلق کہی یہ بڑی بات
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئرنے کہا:"ہم اس تحریک کے دوران دہلی اوربہارمیں پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جااستعمال پربھی شدید تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں، جن میں لاٹھی چارج، پیلٹ گن کا استعمال، قریب سے آنسوگیس کے گولے داغنا اور پُرامن مظاہرین کوغیرقانونی طورپرحراست میں لینا شامل ہے، نہایت تشویش ناک ہیں اوران کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
وزیرا عظم مودی نے قبول کیا دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، پیپر لیک سے متعلق احتجاج کے درمیان بڑی کارروائی، طلبا تحریک ختم کرنے کا اعلان
ملک کے وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان نے پہلے عہدے سے استعفیٰ دیا، اب اسے وزیراعظم مودی نے قبول کرلیا ہے۔ پیپرلیک معاملے میں طلبا کے مطالبہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔
After Dharmendra Pradhan Resign: دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد دہلی میں سیاسی سرگرمیاں تیز، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اچانک دہلی روانہ
مرکزی وزیرِ تعلیم کے عہدے سے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد دہلی سے لے کر مہاراشٹر تک سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
We have Tricolour, You have Lathis: ’’خوف کی سیاست کرنے والے دیکھ لیں، ہمارے ہاتھ میں ترنگا ہے، آپ کے ہاتھ میں لاٹھیاں‘‘ ادھو ٹھاکرے نے دہلی پولیس کو دکھایا آئینہ
ادھو ٹھاکرے نے کہا اس ہجوم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں انہیں یہاں کوئی جان پہچان والا نظر نہیں آرہا اور یہی بات اہم ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ہندوستان کے باشندے ہیں۔ جو لوگ اب تک خوف پیدا کرکے اور ہمیں اپنی شناخت بھلا کر حکومت کرتے رہے ان کے لیے یہ منظر دیکھنے کے قابل ہے۔
اوقاف کا تحفظ پوری ملت کی ذمہ داری، آل انڈیا متولیان کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے اوقاف کے تحفظ اور شفاف انتظام سے متعلق دیا بڑا بیان
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک رجسٹریشن اورقانونی کارروائیوں میں سب سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، اس لیے متولی حضرات کو خاص طورپرذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات میں عدالت کوآئینی حدود کے اندررہ کرفیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا موجودہ دورمیں یہ کہنا مشکل ہے کہ عدالت انصاف کے مطابق کام کررہی ہے۔





