Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے اس بل کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔

سنجے نروپم نے وقف ترمیمی بل پرشیوسینا (یوبی ٹی) کی مخالفت کومسلم ووٹ بینک کی سیاست قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ادھوٹھاکرے نے ہندوؤں کو نظراندازکرکے کانگریس کی راہ پکڑلی۔

اترپردیش واقع سنبھل میں گزشتہ سال نومبر میں ہوئے تشدد سے متعلق بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق کے کردار پرسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد مغربی بنگال میں وقف جائیداد سے متعلق بڑا تنازعہ چھڑگیا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایڈن گارڈن، فورٹ ولیم اورعلی پورچڑیا گھرجیسے اہم مقامات وقف کا حصہ ہیں۔ مرکزی حکومت نے مغربی بنگال میں 80,548 وقف جائیداد کی جانکاری دی ہے، جن میں سے کئی کا استعمال تعلیم اورصحت کے میدان میں ہو رہا ہے۔

راجیہ سبھا میں کل دیررات وقف ترمیمی بل پرہوئی ووٹنگ میں نیا تال میل نظرآیا۔ وقف ترمیمی بل کی حمایت 128 ووٹ پڑے اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے جبکہ حکومت کے پاس 125 اوراپوزیشن کے پاس 88 اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ ایسے میں آئیے آپ کو پوری تفصیل بتاتے ہیں۔

زخمی بزرگ کے مطابق کچھ لوگ اسے زخمی حالت میں تھانے لے گئے اور پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔ جب یہ معاملہ پولیس افسران کے علم میں آیا تو سی او دیپک تیواری نے فوری طور پر پولیس کو موقع پر بھیجا اور تحقیقات کرائی لیکن تب تک ملزم فرار ہو چکے تھے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے الزام لگایا کہ حکومت اس بل کو مسلم خواتین کے مفاد میں بتا رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلم طبقے کے خلاف ایک سیاسی ایجنڈا ہے۔

مرکزی حکومت کے ذریعہ لایا گیا وقف ترمیمی بل 2024 لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا میں بھی منظور ہوگیا ہے۔ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی بحث کافی دیرتک چلے گی۔ اب یہ بل قانون بننے کی سمت میں آگے بڑھ چکا ہے۔

لوک سبھا سے پاس ہونے کے بعد راجیہ سبھا میں وقف ترمیمی بل کو پیش کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بھی اس بل کی حمایت کی ہے۔ جے ڈی یو کے اس موقف کی مخالفت میں سینئرلیڈرقاسم انصاری نے استعفیٰ دے دیا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈرامتیازجلیل نے لوک سبھا میں منظور وقف ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی کے خوف سے چندرابابو نائیڈو اورنتیش کمار نے بل کی حمایت کی۔