Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مودی حکومت پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھا رہی ہے اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھی حکومت کو سخت قدم اٹھانے کی بات کہی ہے۔راہل گاندھی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے تمام لیڈران نے مرکزی حکومت کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے اور حکومت کے فیصلے کے  ساتھ کھڑے رہنے کی بات کہی ہے۔

راجستھان کے جے پورمیں جامع مسجد کے باہربی جے پی رکن اسمبلی بال مکند آچاریہ نے لوگوں کی بھیڑکے ساتھ احتجاج کیا۔ اس معاملے میں پولیس نے بی جے پی رکن اسمبلی اوران کے حامیوں کے خلاف ایف آئی آردرج کی ہے۔

میرٹھ کے محلہ گھوسیان باشندہ پیر الدین کی بیٹی ثنا مشکل میں پھنسی، اس کی شادی پاکستان میں ہوئی تھی اور وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ثنا اپنے 2 بچوں کو لے کر ہندوستان آئی تھی، اسے 45 دنوں کا ویزا ملا تھا جو اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔

 ٹورسٹ پونی اسٹینڈ کے چیئرمین رئیس احمد بھٹ نے کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو بچایا جودہشت گردانہ حملے کے وقت خوفزدہ تھے۔ یہاں کی پوری آبادی بہت پریشان ہے۔

کرایے کے گھر میں رہنے والے اشفاق رکشہ چلا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ ان کی بیٹی یو پی ایس سی امتحان میں 142 واں رینک حاصل کر کے مہاراشٹر کی پہلی مسلم خاتون آئی اے ایس افسر بننے کی راہ پر۔ بیٹی کی کامیابی سے والدین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو۔

اسکولوں کے لیے رہنما ہدایات جاری، دہلی محکمہ تعلیم نے مارننگ اسمبلی منسوخ کرنے، آؤٹ ڈور سرگرمی سے بچنے اور بچوں کو گرمی سے جڑی بیماریوں کے جوکھم کے بارے میں بتانے کی ہدایت دی  ہے۔ مشرقی ریاستوں میں بارش، طوفان اور 27 اپریل کو ژالہ باری کے امکانات پر الرٹ جاری۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم مودی سے پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ ہندوستانی اس مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہیں۔

یہ احتجاج صبح 10 بجے ایشان کیمپس سے شروع ہوا اور گریٹر نوئیڈا کی سڑکوں پر جاری رہا، اس میں شامل  شرکاء نے بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم، ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔

شراب کاروباری کو پولیس کی گرفت سے چھڑانے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور لاٹھیوں سے لیس تھانے کے احاطے میں پہنچ گئے۔ یہاں لوگوں نے زبردست ہنگامہ آرائی کی اور توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران جب پولیس نے چارج سنبھالا تو لوگ مزید پرتشدد ہوگئے اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کردیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے ملازمین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر پک اپ گاڑی کے ڈرائیور کی تلاش کی جارہی ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔