سماجوادی پارٹی رکن پارلیمٹ ضیاء الرحمان برق
سنبھل میں گزشتہ سال 24 نومبر کو جامع مسجد میں سروے کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد کے معاملے میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے 1100 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ اس چارج شیٹ میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاءالرحمٰن برق سمیت 23 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔
تشدد سے قبل لوگوں کو اکسانے کا الزام
مذکورہ تشدد کے دوران چار نوجوانوں کی موت ہوئی تھی جبکہ 29 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ رکن پارلیمنٹ ضیاءالرحمٰن برق پر الزام ہے کہ انہوں نے تشدد سے قبل لوگوں کو اکسانے کا کام کیا۔ اس تشدد کے سلسلے میں پولیس نے کل 12 مقدمات درج کیے تھے، جن میں سے 10 میں پہلے ہی چارج شیٹ داخل ہو چکی تھی۔ رکن اسمبلی اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال پر بھی تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔
تمام ملزمان اس وقت جیل میں ہیں بند
صدر کوتوالی پولیس نے ضیاءالرحمٰن برق سمیت 23 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس واقعے کے کل 90 ملزمان ہیں اور تمام ملزمان اس وقت جیل میں بند ہیں۔ 25 مارچ کو ایس آئی ٹی نے دہلی جا کر ضیاءالرحمٰن برق کو نوٹس دیا تھا، جس کے بعد 8 اپریل کو تھانہ نکھاسہ میں ان کا بیان درج کیا گیا۔ تشدد میں نامزد کسی بھی ملزم کو اب تک ضمانت نہیں ملی ہے۔
چار افراد کی ہوئی تھی موت
پولیس کے مطابق 24 نومبر کو جامع مسجد میں جاری سروے کے دوران بھڑکنے والے تشدد میں چار لوگوں کی جان گئی تھی۔ حال ہی میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس تشدد کا ماسٹر مائنڈ شارق ساٹھا نامی بین الاقوامی آٹو لفٹر ہے جو اس وقت دبئی میں چھپا ہوا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شارق کے ساتھی تھے جنہوں نے چار افراد کو ہلاک کیا۔
انٹرنیٹ بند، کرفیو نافذ
تشدد کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، کئی دنوں تک انٹرنیٹ بند رہا اور کرفیو نافذ کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات ایس آئی ٹی کو سونپی گئی تھیں۔ حالیہ دنوں ایس آئی ٹی کی ٹیم ضیاءالرحمٰن برق کے دہلی واقع رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور انہیں دفعہ 35 اے کے تحت نوٹس دیا گیا تھا، جس میں 8 اپریل تک بیان ریکارڈ کرانے کو کہا گیا تھا۔
اس سے قبل جامع مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی ایڈووکیٹ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عوامی انتشار کی سازش رچی اور سنگین جرائم میں جھوٹے بیانات دیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




