Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مہاراشٹر سماجوادی پارٹی کے صدر ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ ہم کانگریس کے ساتھ نہیں لڑیں گے۔ بی ایم سی کا الیکشن سماجوادی پارٹی اپنے دم پرلڑے گی۔

یوپی کے فتح پور ضلع میں امن وامان کویقینی بنانے کے لئے پولیس اورضلع انتظامیہ نے مقبرے کے ایک کلومیٹرکے دائرے میں سبھی سڑکیں بند کردی ہیں۔

گنیش بھگوان کے عقیدت مندوں کے لیے انگارکی چترتھی نہایت مبارک دن مانا جاتا ہے، جسے پوجا، نذر و نیاز اور برت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ عقیدت مندوں کا یقین ہے کہ اس دن کی دعائیں ضرور پوری ہوتی ہیں۔ پربھادیوی کے علاقے میں جیسے ہی ’’گنپتی بپّا موریہ‘‘ کے نعرے گونجتے ہیں، شری سدھی ونائک مندر عقیدت، حوصلے اور سماجی یکجہتی کی علامت بن کر اُبھرتا ہے۔

حالانکہ، سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں بھی ایسا ہی سرکلر جاری کیا تھا، لیکن اُس وقت صرف جانوروں کے کاٹنے کے واقعات کا حوالہ دیا گیا تھا۔

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

مسلسل بارش سے ملبے والی جگہ پر پانی بھرنے کے باعث ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، آئی ٹی بی پی اور فوج کے جوانوں کو ریسکیو آپریشن بار بار روکنا پڑ رہا ہے۔ بھاگیرتھی ندی کے تیز بہاؤ کے پیش نظر ایس ڈی آر ایف نے الرٹ جاری کر کے لوگوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

قومی دارالحکومت دہلی کے کئی علاقوں میں منگل کی صبح موسلا دھار بارش ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک طرف تو لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے،

معروف ادیبہ اور نقاد رخشندہ روحی مہدی نے مسرور جہاں کے افسانوی اسلوب اور ان کی تخلیقی انفرادیت پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق مسرور جہاں کے افسانوں میں عورت کے جذبات، اس کی محرومیاں اور اس کے خواب نہایت سچائی کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ مسرور جہاں کی تحریروں میں زبان کی شستگی، پلاٹ کی مضبوطی اور کرداروں کی نفسیاتی گہرائی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔

’’بھارت بھارتی صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ اتحاد میں تنوع اور ناقابل شکست قومی جذبے کی علامت ہے۔ مہم کو جموں و کشمیر سمیت دیگر اضلاع میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ حب الوطنی، قومی یکجہتی اور ثقافتی فخر کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈارکا کہنا ہے کہ جموں و کشمیرکے عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے اوراپنے نمائندوں کو منتخب کیا ہے۔ منتخب نمائندے ہی مقامی لوگوں سے متعلق معاملات کوآگے بڑھائیں گے، ایسے میں نامزد اراکین کیا کریں گے۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ وزارت داخلہ کا جواب ہے، جسے ہائی کورٹ نے مرکزسے طلب کیا ہے۔