Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ووٹوں کی لوٹ، ایس آئی آر، غیرقانونی انہدام، بنگالی مزدوروں کو نشانہ بنانے اور دہشت گردانہ بم دھماکوں پر حکومت کے دوہرے رویے کو ملک کے لئے خطرناک اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ملی تنظیموں کا وفاق سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ ملک کی ملی تنظیموں کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ حالانکہ اس تنظیم کو ہمیشہ انتشار کا سامنا رہا ہے۔ کبھی الگ گروپ بنانے اورکبھی دوحصوں میں منقسم کرکے قوم کومشکل میں ڈالنے کا عمل چلتا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بار پھرانتشارکا سامنا ہے۔

ناگپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے این سی پی صدرشرد پوارنے کہا کہ انہوں نے ان لوگوں اور کانگریس لیڈرراہل گاندھی کے درمیان ایک میٹنگ کرائی، لیکن دونوں لیڈران نے آخرکار یہ کہتے ہوئے تجویز مسترد کردی، یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے۔

بھارت کو اپنی صنعتی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا، کاروبار کے لیے آسانیاں بڑھانی ہوں گی، ہنر مندی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط معیشت بیرونی اقتصادی دباؤ کے خلاف بہترین حفاظتی آلہ ہے۔

ہوائی اڈے کی آئی ٹی ٹیم اصل مسئلے کی نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی سرور کی خرابی دور کر کے سسٹم بحال کر دیے جائیں گے، تاہم فی الحال مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

شوبیندو ادھیکاری نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی میں 100 سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں متاثرہ کے والدین بھی شامل ہیں۔ متاثرہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کی پولیس نے بغیر کسی اشتعال کے انہیں دھکا دیا اور ان کی چوڑیاں توڑ دیں۔

بارش کے بعد کی صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ دہلی-این سی آر میں شہری انفراسٹرکچر اب بھی بارش کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، اور چند گھنٹوں کی شدید بارش پورے نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔

ملک بھر میں ہفتہ کے روز رکشا بندھن کا تہوار بھی منایا جا رہا ہے، ایسے میں ویک اینڈ ہونے کے باوجود ٹریفک نظام کو برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

اگرچہ بارش نے گرمی اور امس  سے نجات دلائی ہے، لیکن کنّاٹ پلیس، منٹو روڈ، آئی ٹی او اور متھرا روڈ جیسے علاقوں میں پانی بھرنے کے باعث ٹریفک متاثر ہوا ہے۔ رکشا بندھن کے دن سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے اور ٹریفک اپڈیٹس چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے بھوپال کے نواب حمید اللہ خان کی جائیداد سے متعلق تنازعہ میں سیف علی خان اوران کے خاندان کوبڑی راحت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پرحکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نوٹس جاری کردیا۔ یہ تنازعہ نواب کی وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق ہے، جس میں پٹودی خاندان اپنی وراثت پرحق کا دعویٰ کررہا ہے۔