Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

جامعہ ہمدرد کے نیشنل کیڈٹ کور (NCC) یونٹ نے آرکائیوز بلڈنگ میں فخر اور جوش و جذبے کے ساتھ 78 واں این سی سی ڈے منایا۔ اس تقریب میں نظم و ضبط، قیادت اور قومی خدمت کی این سی سی کی شاندار روایت کو اجاگر کیا گیا۔

تیزی سے بدلتی ڈیجیٹل دنیا میں لگاتار دوسرے سال بھی نمبر-1 مقام حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام سچی، بےلاگ اور نڈر صحافت کو ترجیح دیتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے فوری طور پر HADR (Humanitarian Assistance and Disaster Relief) کے تحت ضروری امدادی سامان بھیجا ہے اور جیسے جیسے حالات بدلیں گے بھارت مزید مدد دینے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم Neighbourhood First پالیسی اور Vision MAHASAGAR کے جذبے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے پر رسہ کشی بڑھ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سوشل میڈیا پر وعدے کی یاد دہانی کرائی، تو وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیتے ہوئے پورے مدت کار تک عہدے پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

’بزمِ صحافت‘ کے تحت ’’نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ‘‘ کانکلیومیں سیاست دانوں کے علاوہ اردوزبان وادب اورصحافت سے وابستہ افراد نے شرکت کی جبکہ آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سیمیلن میں ملک کے ممتازشعرائے کرام نے سماں باندھا۔

راہل گاندھی نے لکھا، “ہر ماں سے جب میں سے ملتا ہوں، وہ یہی کہتی ہے کہ اس کا بچہ زہریلی ہوا میں سانس لے کر بڑا ہو رہا ہے۔ بچے تھکے ہوئے، ڈرے ہوئے اور غصے میں ہیں۔

دہلی-این سی آر میں آج موسم خشک ہے، مگر آلودگی اور دھند نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دارالحکومت اور نوئیڈا میں ہوا کامعیار ’بہت خراب‘ سطح پر بنا ہوا ہے۔ شمالی ہند میں برفباری کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جنوبی ہند میں نیا طوفان ’دتواہ‘  شدید بارش لا سکتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک کے اڈوپی واقع شری کرشن مٹھ پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے لکش کنٹھ گیتا پارایَن پروگرام میں حصہ لیا۔ اس پروگرام میں ایک لاکھ شرکاء شریمد بھگود گیتا کا اجتماعی پاٹھ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریند رمودی نے ‘ایکس’ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ: “2025-2026 کی دوسری سہ ماہی میں 8.2 فیصد جی ڈی پی نمو انتہائی حوصلہ افزا ہے۔ یہ ہماری ترقی حامی پالیسیوں اور اصلاحات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے

دو دن جاری رہنے والے اس علمی اجتماع میں ملک کی متعدد جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں سے آئے ہوئے ماہرین نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی، معاشی محرومی، خواتین کی تعلیم، مدارس کی عصری ضروریات، اسلامی مالیات