Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

جشن بہار ٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد نے ’ہندوستان کی سیاست میں اردو کے کردار‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر ہوں یا پھر رکن پارلیمنٹ، سب کو اردو کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب اپنی بات رکھنے کے لیے اردو شاعری کا سہارا لیتے ہیں۔ اردو بھارت کی رگوں میں گردش کرتی ہے۔ جب تک دنیا میں عشق باقی ہے، عشق کی خواہش باقی ہے، تب تک اردو بھی باقی ہے۔

 راحت اندوری نے کہا کہ میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ ، گیلی زمین کھود کر فرہاد ہوگئے۔  ہماری آنے والی نسلوں کو راستہ بتانا ہوگا، زبان سے جڑئے رہیں اور اپنےعلاقوں سے جڑئے رہیں،ملک تو ہم ہی لوگوں سے بنتا ہے ۔

بھارت کا پہلا پرائیویٹ آر بٹل راکٹ وکرم-I  تیار ہے۔ آج وزیر اعظم مودی نے اس کا افتتاح کیا۔ اسکائی روٹ ایروسپیس کے ذریعے تیار کردہ یہ 26 میٹر بلند راکٹ 300 کلوگرام تک کے سیٹلائٹس کو خلا کی مدار میں پہنچائے گا۔

مودی حکومت کے زرعی اقدامات سے کسانوں کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے، پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور جدید زرعی معلومات تک رسائی نے ملک میں کسانوں کے لیے ایک مثبت ماحول قائم کیا ہے۔

 کھلاڑیوں نے نابینا ہونے کے باوجود شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ حوصلہ اور محنت انسان کو ہر رکاوٹ سے آگے لے جا سکتی ہے۔

امت شاہ نے مزید لکھا: ’’وزیر اعظم نریندر مودی نے آئین کو زمینی سطح پر نافذ کر کے ان علاقوں میں امن، ترقی اور اعتماد کے نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ نئی زبانوں میں ترجمہ اس کوشش کو نئی رفتار دے گا‘‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک اور گوا کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کے مطابق، وہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کرناٹک کے اُڈپی میں واقع مشہور شری کرشنا مٹھ کا دورہ کریں گے، جس کے بعد وہ شام تین بجکر پندرہ منٹ پر گوا پہنچیں گے جہاں وہ شری سمسٹھان گوکرن پرتگالی جیوتتم مٹھ کے 550 سالہ جشن میں شرکت کریں گے۔

ان کا یہ جملہ بھارت ایکسپریس کی صحافتی خدمات کو ایک سایہ دار درخت سے تشبیہ دیتا ہے، جو علم، روشنی اور اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ ان کی یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے ۔

بھارت ایکسپریس کی فیکٹ چیک ٹیم نے اس وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیق کی۔ جب ایشوریہ رائے کے نام اور ویڈیو کے دعووں کے ساتھ سرچ کیا گیا تو کہیں بھی ایسے کسی بیان کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

ہر شاعر نے اپنے مخصوص اسلوب، لہجے اور موضوعات کے ذریعے محبت، انسانیت، سماجی ہم آہنگی اور موجودہ دور کے مسائل کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔ مشاعرے میں گنگا جمنی تہذیب کی جھلک نمایاں طور پر دیکھنے کو ملی، جو ہندوستانی ادبی روایت کی اصل روح ہے۔