Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سات اراکین، جن میں راگھو چڈھا بھی شامل ہیں، کی مبینہ بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سنجے سنگھ نے اس پیش رفت کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے چلایا جانے والا ’آپریشن لوٹس‘ قرار دیتے ہوئے اسے پنجاب کے ساتھ غداری اور آئندہ انتخابات سے قبل ایک منظم سازش بتایا ہے۔

پالی کے کمبھل گڑھ وائلڈ لائف سینکچری میں بھیانک آگ چوتھے دن بھی بے قابو ہے۔ نلوآنیا باندھ اور آس پاس کی پہاڑیاں آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ بجھانے میں دشواری ہو رہی ہے اور جنگلی جانوروں کی زندگی پر شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔

آئی آئی ٹی روڑکی میں 24 سے 26 اپریل 2026 تک منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس “ویژن 2047: خوشحال اور عظیم بھارت 2.0” میں تعلیم، روزگار اور خود انحصاری پر گہری بحث ہوئی۔ پروفیسر (ڈاکٹر) رچنا نے اپنے تجربات شیئر کیے اور نئی تعلیمی پالیسی پر اپنے خیالات پیش کیے۔

امت شاہ نے 110 نشستوں کے “جادوئی ہندسے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی واضح اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے پارٹی کارکنوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے۔ شاہ کے مطابق عوام اب تبدیلی کے حق میں کھڑی ہو چکی ہے

ماہرین کے مطابق تیز ہواؤں اور گرد و غبار کے باعث اے کیو آئی میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پیئیں اور حساس افراد ماسک کا استعمال کریں۔

آج کے موسمی حالات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 42 ڈگری سیلسیس جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب تقریباً 27 فیصد رہنے کی پیش گوئی ہے،

سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی اس نئی حکمتِ عملی کا مقصد بی جے پی کو مرکزی ہدف بنانا ہے، جبکہ ترنمول کانگریس پر نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بھی اپنی تقاریر میں اسی حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ان کے بیانات کا بڑا حصہ بی جے پی کے خلاف رہا، جبکہ ترنمول کانگریس پر محض رسمی تنقید کی گئی۔

وزیر اعظم کے اس دورے کے دوران کئی اہم سرکاری پروگرام منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جن کے لیے ریاستی انتظامیہ نے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اگرچہ ابھی تک دورے کا مکمل شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم مختلف مقامات پر تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

مختلف علاقوں سے عوام جوق در جوق میدان میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے جلسہ گاہ کھچا کھچ بھر گیا اور ہر طرف ’مودی-مودی‘ کے نعرے گونجنے لگے۔ عوام میں جوش اس قدر تھا کہ کئی افراد وزیر اعظم کی تصاویر اور ان کی والدہ کے ساتھ لی گئی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے نظر آئے، جبکہ کچھ مداح خصوصی طور پر ان کی پینٹنگز بنا کر لائے تھے۔