نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے کہا تھا کہ لوک سبھا انتخابات 2024 کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان ہندو راشٹر نہیں ہے۔ اب اس حوالے سے ملک بھر میں سیاست شروع ہو گئی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ہم کہتے رہے ہیں کہ اس ملک کو ہندو راشٹر نہیں بنایا جا سکتا۔
کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے مزید کیا کہا؟
کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ ہندوستان ہندو راشٹر نہیں ہے، بلکہ تکثیریت اور کئی برادریوں کے اتحاد کا ملک ہے۔ امرتیہ سین نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ ملک میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں ڈالنے کا برطانوی راج کا رواج اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کانگریس حکومت سے زیادہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں ہے۔
#WATCH | On Amartya Sen’s remark ‘India is not a Hindu nation’, Karnataka CM Siddaramaiah says, “We have been saying, that this country can not be made as Hindu nation…” pic.twitter.com/34YkLsA52Z
— ANI (@ANI) June 27, 2024
امرتیہ سین نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
ماہر اقتصادیات امرتیہ سین بدھ (26 جون 2024) کی شام امریکہ سے کولکتہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ ہر الیکشن کے بعد تبدیلی دیکھنے کی امید کرتے ہیں۔ پہلے جو کچھ بھی ہوا (بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے دور میں) لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈالنا اور امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو بڑھانا، اب بھی جاری ہے۔ اس کو روکنا چاہیے۔”
امرتیہ سین نے رام مندر کا بھی ذکر کیا۔
اس دوران امرتیہ سین نے رام مندر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، “رام مندر کی تعمیر میں بہت پیسہ خرچ کیا گیا تھا، مہاتما گاندھی، رابندر ناتھ ٹیگور اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ملک میں ہندوستان کو ہندو راشٹر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے، یہ حقیقت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔”
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

