West Bengal Assembly Elections Results: چار مئی کی شام ڈھل رہی ہے مگر بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے: وزیراعظم مودی
مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔
Lotus Blooming From Gangotri To Gangasagar: بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے: وزیراعظم مودی
اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔
RJD Enters Keralam Assembly First Time: بہار میں بجھی اور کیرلم میں جلی لالٹین! آر جے ڈی کے ٹکٹ پر جیتے پی کے، جانئے کون ہے جنوب میں تیجسوی کے ساتھی؟
جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Assembly Election Results: بی جے پی کو کامیابی اچانک نہیں ملی، برسوں کی محنت کا نتیجہ: وزیراعظم مودی کا بنگال و آسام پر ردعمل
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔
Mamata Banerjee Vs Amit Shah: طنز سے تختہ پلٹ تک! جب دیدی نے 2014 میں امت شاہ کا اڑایا تھا مذاق، 2026 میں اکھاڑ پھینکا ٹی ایم سی کا قلعہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔
Assam Election Results: آسام میں بی جے پی کی تاریخی ہیٹ ٹرک، وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے جیت کو ترقی اور ناری شکتی کے حق میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا
ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔
HPBOSE Class 12th Result 2026 Declared: ہماچل بورڈ کے 12ویں جماعت کے نتائج جاری، 92.02 فیصد طلبہ کامیاب، لڑکیوں نے ایک بار پھر مار لی بازی
بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کل 81,417 طلبہ و طالبات نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 74,637 کامیاب قرار پائے۔ کامیابی کی اس بلند شرح نے ریاست کے تعلیمی معیار اور طلبہ کی محنت کو اجاگر کیا ہے۔ نتائج کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس سال بھی لڑکیوں نے لڑکوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔
West Bengal Assembly Election Results 2026: بنگال انتخابات میں مہوا موئترا اور سیانی گھوش کی بھرپور مہم، مگر بی جے پی اکثریت سے کہیں زیادہ آگے نکل گئی
بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔
Association for Protection of Civil Rights: اے پی سی آر تلنگانہ ٹیم کو ملی بڑی قانونی کامیابی، فساد کیس میں گرفتار 20 افراد کو راحت دلوانے میں کی مدد
اے پی سی آر تلنگانہ لیگل ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام 20 افراد جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے رہائی کے لیے درکار مجموعی رقم کا انتظام بھی خود ہی کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام ان خاندانوں کی مالی و ذہنی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، جو مسلسل پولیس نگرانی، پوچھ گچھ اور دباؤ کے باعث شدید پریشانی کا شکار تھے۔
Congress Election Results 2026: راہل گاندھی 99ویں بار ناکام! پانچ ریاستوں میں 20 فیصد سیٹیں بھی نہیں جیت سکی کانگریس؟
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔





