Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ جس طرح کا ماحول بنایا گیا، وہ شفاف جمہوری عمل نہیں تھا۔ ان کے مطابق ”ہم شکست تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے“۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔

کیرلا اسمبلی الیکشن میں انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یوایم ایل) نے سب سے مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 27 میں سے 22 سیٹوں پرجیت درج کی۔ پیرامبرا سیٹ سے جیت حاصل کرنے والی ایڈوکیٹ فاطمہ تہلیہ آئی یوایم ایل کی پہلی خاتون رکن اسمبلی بنی ہیں، جو اس الیکشن کی بڑی حصولیابی رہی۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی اتحاد نے شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت کی ہیٹ ٹرک کی۔ ہیمنتا بسوا سرما نے جیت کا سہرا پون کھیڑا کو دیا اور نشاندہی کی کہ بنگلہ دیشی مسلمان ووٹ دینے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ انہوں نے بنگال میں بی جے پی کی زبردست جیت کو"ملک کی جیت" قرار دیا۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ملک میں بینکوں کا مجموعی بقایا قرض 212.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 29 لاکھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عوام اور کاروباری طبقے کی بڑھتی مالی ضروریات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

بنگال میں بی جے پی کی پہلی بار حکومت بننے جا رہی ہے۔ بی جے پی نے ممتا بنرجی کے سب سے مضبوط قلعہ پرقبضہ کیا ہے۔ یہ جیت بی جے پی کے لئے صرف ایک ریاست کی جیت نہیں ہے بلکہ بی جے پی نے ایک بڑے خواب کو بھی مکمل کیا ہے۔ بی جے پی نے تقریباً 200 سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ اس طرح سے ممتا بنرجی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے بارے میں سنگین الزامات لگائے ہیں، جن میں 100 سیٹوں پر ووٹوں میں دھاندلی اورای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ شامل ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر شدید تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت کا قتل‘‘ قراردیا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں بلکہ الیکشن کمیشن سے بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے لئے فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔

مغربی بنگال میں پارٹی نے وزیرداخلہ امت شاہ کواسٹریٹجک ذمہ داری سونپی ہے، جس کی وجہ سے وزیراعلیٰ کے انتخاب اورحکومت سازی کی سمت واضح ہوتی نظرآرہی ہے۔ وہیں آسام کی ذمہ داری سابق قومی صدرجے پی نڈا کو دی گئی ہے۔