Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

راجستھان میں غیر قانونی شراب کے خلاف جاری خصوصی مہم کے تحت محکمہ آبکاری نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 1 لاکھ 40 ہزار 402 لیٹر واش (کچی شراب تیار کرنے والا محلول) کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف اضلاع میں کارروائی کے دوران 172 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 633 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن 2026 میں سب سے بڑی پارٹی ٹی وی کے نے گورنر کے سامنے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ فی الحال گورنر نے اطمینان کا اظہارنہیں کیا ہے۔ اس طرح سے تمل ناڈو میں ابھی بھی تعطل برقرار ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

یہ عرضی ایک درخواست گزار ایس وگنیش شیشیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے اہل خانہ کے پاس ان کی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے موجود ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو ریگولر کیس درج کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔

ایف ڈی اے کے عہدیداروں نے بتایا کہ انہیں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بعض تاجر آموں کو جلد پکانے کے لیے خطرناک کیمیکلز کا استعمال کر رہے ہیں۔ چھاپے کے دوران نہ صرف کیلشیم کاربائیڈ بلکہ دیگر مضر صحت کیمیکلز بھی برآمد کیے گئے، جنہیں بوتلوں میں رکھ کر آموں پر چھڑکا جا رہا تھا۔ اس انکشاف کے بعد مارکیٹ میں کھلبلی مچ گئی اور متعدد دکان داروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں۔

کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 میں کانگریس کی زبردست کامیابی کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ پارٹی قیادت نے اس سلسلے میں اپنے دو سینئر لیڈروں اجے ماکن اور مکل واسنک کو مرکزی آبزرور مقرر کیا ہے، جو نو منتخب اراکین اسمبلی سے مشاورت کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے لیں گے۔

ذرائع کے مطابق 19 مئی کی اس میٹنگ میں صرف چھتیس گڑھ ہی نہیں بلکہ دیگر اہم ریاستوں کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ان ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے، سرحدی علاقوں کی نگرانی بڑھانے اور نکسلیوں کے فرار کے راستوں کو بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 4 مئی سے اب تک ریاست کے درجنوں مقامات پر انتخابی نتائج سے متعلق جھڑپیں اور پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں سیاسی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 10 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

اگرچہ سوویندو ادھیکاری کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتی ہے جو سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ امت شاہ کی ترجیح ایسے لیڈر کا انتخاب ہے جو مضبوط انتظامیہ چلا سکے، سرحدی دراندازی پر قابو پائے اور ’’سونار بنگلہ‘‘ کے وژن کو عملی شکل دے سکے۔

جماعت اسلامی ہند نے مغربی بنگال میں انتخابی عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں، کمزور طبقات کوحق رائے دہی سے محروم کئے جانے اورسرکاری مشینری کے غلط استعمال کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیزبیانیے نے سماج کے جمہوری ماحول کوخراب کیا اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کئے ہیں۔