بی جے پی ایم پی نے لوک سبھا میں الگ بندیل کھنڈ ریاست بنانے کا کیا مطالبہ
Bundelkhand: بندیل کھنڈ کے ان اضلاع کو جو اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے دڑے ہوئے ہیں، ان کو الگ کرکے نئی بندیل کھنڈ ریاست بنانے کا مطالبہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ اب اتر پردیش کے ہمیر پور لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کنور پشپندر سنگھ چندیل نے حکومت سے الگ بندیل کھنڈ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ چندیل نے دونوں ریاستوں سے تعلق رکھنے والے بندیل کھنڈ کے حصوں کو الگ کرکے ایک نئی بندیل کھنڈ ریاست بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بندیل کھنڈ ایک خاص قسم کا خطہ ہے، جس کی اپنی الگ ثقافت ہے۔ . بندیل کھنڈ کو صرف زمین کا ایک ٹکڑا سمجھنے کے بجائے اسے ایک نئی ریاست بنانا چاہیے۔
علیحدہ ریاست کے مطالبہ کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی منشا کے مطابق علاقے کی ترقی کے لیے بندیل کھنڈ کو الگ ریاست بنایا جانا چاہیے۔ تاکہ اس علاقے میں نامیاتی کاشتکاری، روزگار، سیاحت، ثقافت اور مذہبی شعبوں کو فروغ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں- Water Vision 2047: پانی کو تعاون اور تال میل کا موضوع بنانا ہر ریاست کی ذمہ داری
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے بندیل کھنڈ میں چلائی جارہی ترقیاتی اسکیموں کو لے کر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے کام کی بھی تعریف کی اور کہا کہ بندیل کھنڈ میں ڈیفنس کوریڈور بن رہا ہے، ایکسپریس وے بن رہا ہے، ندی کو جوڑنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے،آبپاشی اور پینے کے پانی کا انتظام کیا گیا ہے۔ بندیل کھنڈ حکومت کی اسکیموں کے زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کر رہا ہے، اس کے لئے وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے شکر گزار ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے تمام مسائل اور مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی ریاست بندیل کھنڈ کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



