کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت نے سرکاری ٹھیکوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والے بل کو منظوری کے لیے صدر دروپدی مرمو کو بھیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا۔ گورنر تھاور چند گہلوت نے ایک بیان میں کہا کہ بل صدر کو اپنے Discretionary rights کا استعمال کرتے ہوئے بھیجا جا رہا ہے۔
کرناٹک Transparency in Public Procurement (Amendment) بل گزشتہ ماہ اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ اس بل میں مسلمانوں کو ایک کروڑ روپے تک کے تعمیراتی معاہدوں میں 4 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز ہے۔ گہلوت نے کہا، “ہندوستان کا آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا ہے اور یہ مساوات کے اصولوں (آرٹیکل 14)، عدم امتیاز (آرٹیکل 15) اور سرکاری ملازمت میں مساوی مواقع (آرٹیکل 16) کی خلاف ورزی کرتا ہے۔”
سدارامیا نے بل کا دفاع کیا
مارچ 2023 میں پچھلی بی جے پی حکومت نے زمرہ 2B کے تحت 4 فیصد ریزرویشن واپس لے لیا تھا۔ گہلوت نے کہا کہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور جہاں معاملہ زیر التوا ہے، اس پر روک لگا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عوامی معاہدوں میں مسلمانوں کو 4 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے اپنی حکومت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ اقتصادی اور سماجی طور پر کمزور لوگوں کو بااختیار بنانا کانگریس کا مشن اور عزم ہے۔
‘بی جے پی نے اسے بڑا ایشو بنایا’
بنگلورو میں امبیڈکر جینتی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں ،جنہیں مواقع اور انصاف سے محروم رکھا گیا ہے۔ “ہم نے دلتوں، پسماندہ طبقوں اور اقلیتوں کو معاشی اور سماجی طور پر مضبوط بنانے کے لیے ٹھیکوں میں ریزرویشن دیا ہے۔ پہلے میں نے اسے 50 لاکھ روپے (معاہدے کے لیے) تک کیا، پھر اسے بڑھا کر 1 کروڑ روپے کر دیا۔ اب ہم نے اسے 2 کروڑ روپے کر دیا ہے – یہاں تک کہ OBC زمرہ 1، 2A اور 2B کے لیے جو مسلمان ہیں۔ انہوں نے (BJP) نے اسے ایک بڑا ایشو بنا دیا”۔
بھارت ایکسپریس ارد و
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




