Bharat Express DD Free Dish

سیاست

بہار کے سی ایم پر حملہ کرتے ہوئے، پرشانت کشور نے کہا، "2015 کے بعد جو واقعہ ہوا ہے، نتیش کمار نے دیکھا ہے کہ چاہے عوام کسی کو ووٹ دیتے ہیں، چاہے وہ آر جے ڈی کو ووٹ دیتے ہیں، چاہے وہ کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں... یا پھر آزاد کو

اس فیصلے سے  انڈیا اتحاد پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ کیونکہ کانگریس جتنی مضبوط ہوگی اتحاد اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ آل انڈیا الائنس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ راہل گاندھی کی رکنیت بحال ہونے سے کانگریس کے ساتھ اتحاد کو بھی تقویت ملے گی۔ اپوزیشن کا اتحاد مضبوط ہوگا اور جارحیت بھی بڑھے گی۔ راہل بی جے پی کے خلاف سب سے مضبوط آواز ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ میٹنگ بھی بنگلورو کی طرح ہوگی۔ اس میں پہلے دن یعنی 31 اگست کو عشائیہ کا پروگرام رکھا گیا ہے۔

دکشٹ نے ٹویٹ کیا، ’’کاش آپ  ہم سے بھی ملتے دنیش گنڈو راؤ‘‘۔ ہم آپ کو اروند کیجریوال کے دور حکومت میں بدعنوانی کے علاوہ تعلیم، صحت، مالیات، ماحولیات، پانی، سڑک اور انفراسٹرکچر کی حقیقت دکھاتے ۔

...راہل کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملنے کے بعد، بی جے پی ایم ایل اے اور عرضی گزار پورنیش مودی نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا، ''میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن

نوح تشدد میں سوشل میڈیا کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہریانہ کے وزیر داخلہ انل وج نے کہا کہ اس سلسلے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

دراصل 24 جولائی کو، ادھو ٹھاکرے کی پارٹی نے ممبئی میں ایس بی آئی کی مرکزی شاخ کو ایک خط لکھا، جس میں شیو سینا کے بینک اکاؤنٹ میں موجود 50 کروڑ روپے شیو سینا یو بی ٹی کے نئے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کو کہا گیا۔یہ سب کاروائی تب کی گئی جب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد شیوسینا پارٹی اور پارٹی کے نشان پر ایکناتھ شندے کا حق ہوگیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی کے اس بیان نے عام لوگوں کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کر دی ہے کہ آئندہ انتخابات قومی اتحاد (این ڈی اے) اور  انڈیا کے درمیان لڑے جائیں گے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو بھی شکایت کی تھی، لیکن ای سی آئی نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

مانسون اجلاس کے آغاز کے بعد سے ہی لوک سھا میں منی پور کے معاملے پر تعطل کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا کیونکہ اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بج کر 15 منٹ تک ملتوی کر دی گئی۔

منی پور پولیس کنٹرول روم کی طرف سے جاری کردہ ایک علیحدہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ "ریاست میں حالات غیر مستحکم اور کشیدہ ہیں ۔لیکن کنٹرول میں ہیں اور سیکورٹی فورسز نے ریاست کے حساس اور سرحدی علاقوں میں تلاشی مہم شروع کی ہے"۔