بہار اسمبلی انتخابات میں سیٹ تقسیم سے متعلق اب بھی الجھن کی صورتحال قائم ہے۔ پٹنا میں شروع ہونے والی این ڈی اے اور انڈیا عظیم اتحاد کی ملاقاتیں اب دہلی منتقل ہو چکی ہیں، لیکن ابھی تک سیٹ شیئرنگ کا اعلان نہیں ہو سکا ہے۔ اس دوران اتحادی جماعتوں کی ناراضگی پر کافی بحث ہوئی ہے۔ این ڈی اے میں ہندستانی عوام مورچہ کے سربراہ اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کی سیٹوں کی تقسیم پر ناراضگی کی بات سامنے آئی تھی۔
بہار میں بَہار ہوگی
اس دوران مانجھی دہلی سے پٹنا لوٹ رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں بہار ہوگی، نتیش اور مودی کی حکومت ہوگی۔ مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ناراضگی کی بحث کو ختم کرتے ہوئے لکھا، ’’ابھی میں پٹنا نکل رہا ہوں۔ ویسے ایک بات بتا دوں، میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج پھر کہہ رہا ہوں، میں جیتن رام مانجھی اپنی آخری سانس تک وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ رہوں گا۔ بہار میں بَہار ہوگی، نتیش کے ساتھ مودی کی حکومت ہوگی۔‘‘
अभी मैं पटना निकल रहा हूँ…
वैसे एक बात बता दूँ मैंने पहले भी कहा था और आज फिर से कह रहा हूँ…
मैं जीतन राम मांझी अपने अंतिम साँस तक माननीय प्रधानमंत्री @narendramodi जी के साथ रहूँगा।
“बिहार में बहार होगी,
नीतीश संग मोदी जी की सरकार होगी”— Jitan Ram Manjhi (@jitanrmanjhi) October 12, 2025
این ڈی اے میں اتحاد کا پیغام
مرکزی وزیر کی اس پوسٹ کے بعد واضح ہو گیا ہے کہ وہ این ڈی اے سے ناراض نہیں ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ 6 نومبر کو اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔ اس انتخاب میں اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (یونائٹڈ) کے قیادت والے این ڈی اے اور راشٹریہ جنتا دل (راجد) کے تیجسوی یادو کی قیادت والے عظیم اتحاد کے درمیان سمجھا جا رہا ہے۔عظیم اتحاد این ڈی اے کے سربراہ اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندستانی عوام مورچہ این ڈی اے کا حصہ ہے۔ تاہم، بہار کی انتخابی جنگ میں پرشانت کیشور کی جن سوراج پارٹی نے بھی ریاست کی تمام 243 نشستوں پر دعویٰ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
