Bharat Express

Anti Naxal Operation: دنتے واڑہ-بیجاپور سرحد پر سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں نکسلی خاتون ہلاک

وزیر اعظم نریندر مودی کے چھتیس گڑھ کے دورے سے پہلے اتوار کو پچاس ماؤنوازوں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے خلاف سیکورٹی فورسز مسلسل کارروائی کررہی ہے۔ نکسل مخالف آپریشن کے تحت پولس فورس کو کامیابی مل رہی ہے۔ تازہ ترین معاملہ دنتے واڑہ-بیجاپور سرحدی علاقے سے سامنے آئی ہے۔ پیر کی صبح سے یہاں پولیس اور نکسلیوں کے درمیان تصادم جاری ہے۔ اس دوران پولس فورس کو ایک بڑی کامیابی بھی ملی ہے، جس میں ایک خاتون نکسلی ماری گئی ہے۔ اس کے پاس سے ایک INSAS رائفل بھی برآمد ہوئی ہے۔ معلومات کے مطابق خاتون نکسلی پر 25 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کا نام رینوکا عرف بانو ہے۔

نکسل متاثرہ علاقے میں انکاؤنٹر

دنتے واڑہ اور بیجاپور اضلاع کی سرحد کو چھتیس گڑھ کا سب سے حساس نکسل متاثرہ علاقہ مانا جاتا ہے۔ اس سے پہلے 29 مارچ کو سکما-دنتے واڑہ سرحد پر بھی 16 نکسلی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ 20 مارچ کوسیکیورٹی فورسز نے دو الگ الگ انکاؤنٹر میں 30 ماؤنوازوں یعنی نکسلی کو ہلاک کیا، جن میں سے 26 دنتے واڑہ-بیجاپور سرحد پر اور 4 کانکیر میں مارے گئے۔

‘لون وراٹو’ مہم اور نکسلیوں کا ہتھیار ڈالنا

وزیر اعظم نریندر مودی کے چھتیس گڑھ کے دورے سے پہلے اتوار کو پچاس ماؤنوازوں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس سے پہلے 25 مارچ کو دنتے واڑہ-بیجاپور سرحد پر ایک اور انکاؤنٹر ہوا تھا، جس میں تین نکسلی مارے گئے تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ‘لون وراٹو مہم کے تحت اب تک 977 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بیان

نکسلیوں کے ہتھیار ڈالنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسی واضح ہے کہ کوئی بھی نکسل جو ہتھیار چھوڑ کر ترقی کا راستہ اختیار کرے گا، اس کی بازآبادکاری کی جائے گی اور اسے مرکزی دھارے سے جوڑا جائے گا۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ 31 مارچ 2026 کے بعد نکسل ازم صرف تاریخ بن جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read