Opposition Alliance meeting on Women Reservation Bill 2026: نئی دہلی: آئینی ترمیمی بل 2026 کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں تیزہوگئی ہیں۔ خصوصی اجلاس سے ایک دن قبل اپوزیشن پارٹیوں نے حکمت عملی طے کرنے کے لئے قومی دارالحکومت دہلی میں ایک اہم میٹنگ بلائی۔ کانگریس صدرملیکا ارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پرمنعقدہ میٹنگ میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی اورآرجے ڈی لیڈراوربہارکے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادوسمیت کئی سرکردہ لیڈروں نے شرکت کی۔ جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین اورسی پی ایم ایل کے جنرل سکریٹری دیپانکربھٹا چاریہ نے عملی طورپرمیٹنگ میں شمولیت اختیارکی۔ جبکہ عام آدمی پارٹی نے خواتین کے ریزرویشن ترمیم پراپوزیشن کے مشترکہ موقف کی حمایت کا اشارہ دیا۔
اکالی دل کی مخالفت
شرومنی اکالی دل نے خواتین ریزرویشن کے ساتھ حد بندی کوجوڑنے کی مخالفت کی ہے۔ پارٹی صدرسکھبیرسنگھ بادل نے کہا کہ ان کی پارٹی خواتین کے ریزرویشن کی حمایت کرتی ہے، لیکن آبادی کی بنیاد پرلوک سبھا سیٹوں کی حد بندی کی مخالفت کرتی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ اس سے عوامی آبادی پرکنٹرول کرنے میں کامیاب ریاستوں جیسے پنجاب کونقصان پہنچے گا، جبکہ دیگرریاستوں کوفائدہ پہنچے گا۔
عمرعبداللہ نے کی یہ بڑی اپیل
عمرعبداللہ نے اس دوران انڈیا الائنس میں شامل تمام پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اس بل پراجتماعی موقف اختیارکریں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کوپارلیمنٹ میں ایک متحدہ حکمت عملی بنانے کی اپیل کی ہے۔ سال 2023 کے جموں وکشمیرکے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عمل عام رائے دہندگان کے مفاد میں ہے یا بھارتیہ جنتا پارٹی کوفائدہ پہنچانے کے لئے ہے۔
دیگرلیڈران کی موجودگی
اس اہم میٹنگ میں شیوسینا (یوبی ٹی) کے سربراہ ادھوٹھاکرے، سنجے راوت، ٹی آربالو، عینی راجا، محمد بشیر اورسپریا سولے بھی شامل ہوئے۔ اس میٹنگ کا اہم مقصد حدبندی اور خواتین ریزرویشن جیسے موضوعات پراپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن میں حکومت کا متحد ہوکرسامنا کیا جاسکے۔ یہ میٹنگ اپوزیشن کے اتحاد کا بھی امتحان مانا جا رہا ہے، جہاں سے آگے کی سیاسی سمت طے ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


