Bharat Express DD Free Dish

Who will next leadership of NCP after Ajit Pawar: اب کس کے ہاتھ جائے گی اجیت پوار کی سیاسی وراثت؟ پڑھیں پورے کنبے کی پروفائل

مہاراشٹر کی سیاست میں اجیت پوار کے بعد این سی پی (اجیت گروپ) کی قیادت کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پارٹی اور پوار خاندان سے جڑے پانچ نام سب سے مضبوط دعوے دار مانے جا رہے ہیں۔ پڑھیں ’دادا‘ کے پورے خاندان (کنبے) کی پروفائل…

مہاراشٹر کی سیاست کے قد آور لیڈر اور ڈپٹی وزیر اعلیٰ اجیت پوار ایک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف پوار خاندان کو بلکہ پوری NCP (اجیت دھڑے) کو قیادت کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔ اس کے بعد سے مسلسل یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ بارامتی کی گدی اور ’دادا‘ کا سیاسی رعب اب کون سنبھالے گا؟ کیا شرد پوار کی NCP اور اجیت پوار کی NCP کا دوبارہ ملاپ ہو جائے گا؟ کیا اجیت پوار کی راجیہ سبھا رکن اور اہلیہ سنیترہ پوار آگے آئیں گی یا پھر پرفل پٹیل پارٹی کے بحران کو دور کرنے والے ثابت ہوں گے؟ کچھ لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ اب پارٹی کی کمان نوجوانوں کے ہاتھ میں جا سکتی ہے، جن میں اجیت پوار کے دونوں بیٹے اور بھتیجے روہت پوار شامل ہیں۔ وہیں سب سے زیادہ چونکا دینے والا فیصلہ چچیری بہن سپریا سولے کے نام پر بھی ہو سکتا ہے، جو اس وقت شرد پوار کے دھڑے میں شامل ہیں۔ تاہم ’آپریشن سندور‘ کے بعد ان کی کچھ قربتیں بی جے پی سے بھی جڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔یہی نہیں، اجیت پوار مہاراشٹر کی سیاست میں محض ایک لیڈر نہیں تھے بلکہ ایک ادارہ تھے۔ NCP (اجیت دھڑے) میں ان کی حیثیت ایک ایسے سپہ سالار کی تھی، جو اکیلے جدھر چلتے تھے راستہ خود بن جاتا تھا۔ ایسے میں ایک المناک حادثے میں ان کی موت کے بعد اب وراثت سنبھالنے کے لیے کئی نام زیرِ بحث ہیں، لیکن سب کی نظریں ان پانچ بڑے دعویداروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ آئیے ایک ایک کر کے جانتے ہیں ان کے کنبے کی وہ پانچ پروفائلز جو گدی سنبھالنے کے سب سے قریب سمجھی جا رہی ہیں:

1۔ سنیترہ پوار (اہلیہ) – سب سے مضبوط دعویدار

واضح رہے کہ اجیت پوار کی اہلیہ اور راجیہ سبھا کی رکن سنیترہ پوار جذباتی اور تنظیمی دونوں اعتبار سے سب سے مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ بارامتی کی عوام سے ان کا براہِ راست رابطہ ہے۔ برسوں سے وہ اجیت دادا کے ساتھ سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہی ہیں، جس کی وجہ سے کارکنان میں ان کی قبولیت سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کئی لیڈروں کا ماننا ہے کہ پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانے اور ’مہا یوتی‘ اتحاد میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے سنیترہ پوار کو قیادت سونپی جا سکتی ہے۔

2۔ پارتھ اور جے پوار (بیٹے) – نوجوان ہونے کا مل سکتا ہے فائدہ

اگر پارٹی اپنے طویل مدتی مستقبل کے بارے میں سوچے، تو ایسے میں اجیت پوار کے نوجوان بیٹے سب سے مضبوط دعویدار بن سکتے ہیں۔ پوار کے بڑے بیٹے پارتھ پوار کو سیاسی تجربہ بھی حاصل ہے، تاہم گزشتہ انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جبکہ چھوٹے بیٹے جے پوار اب تک پردے کے پیچھے رہ کر تنظیمی امور سنبھالتے رہے ہیں۔ دستیاب ذرائع کے مطابق، خاندان کے حامی چاہتے ہیں کہ وراثت خونی وارث ہی سنبھالیں۔

3۔ پرفُل پٹیل – تنظیم کے چانکیہ

این سی پی میں پرفُل پٹیل کو سب سے تجربہ کار اور بہترین حکمتِ عملی ساز مانا جاتا ہے۔ اجیت پوار کی بغاوت کے وقت وہ ان کے سب سے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔ پارٹی کو متحد رکھنے اور مہا یوتی اتحاد میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھنے میں ان کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ پٹیل پارٹی کے ’مارگ درشک‘بن سکتے ہیں، لیکن بارامتی کی مقامی عوام کسی ’باہر کے‘ لیڈر کو کس حد تک قبول کرے گی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

4۔ روہت پوار (بھتیجا) – سب سے چونکا دینے والا نام

اجیت پوار کے بھتیجے اور شرد پوار گروپ کے رکنِ اسمبلی روہت پوار کا نام سب سے زیادہ حیران کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روہت خود کو ’دادا‘ کی طرح ایک سخت اور بے باک لیڈر کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اجیت پوار گروپ کے وفادار کارکنان انہیں آسانی سے قبول نہ کریں، لیکن مراٹھواڑہ خطے میں ان کی مضبوط گرفت مانی جاتی ہے۔

5۔ کیا سپریا سُلے کروا دیں گی خاندان کا ملاپ؟

اجیت پوار کی چچازاد بہن اور شرد پوار گروپ کی سرکردہ لیڈر سپریا سلے کا نام سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اجیت اور سپریا کے درمیان تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں، جس کے باعث اجیت گروپ کے کئی اراکینِ اسمبلی اب سپریا سلے کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ وہیں شرد پوار مہاراشٹر کی سیاست میں ’برگد کے درخت‘ کی مانند ہیں، اور اس غم کی گھڑی میں ممکن ہے کہ پورا خاندان ایک بار پھر متحد ہو جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read