Bharat Express DD Free Dish

Ajit Pawar vs Sharad Pawar

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر اور سینئر لیڈر شرد پوار کو صحت میں نمایاں بہتری کے بعد پونے کے معروف روبی ہال کلینک سے ہفتہ کے روز ڈسچارج کر دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں آئندہ تین سے چار دن مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سمیت کئی مرکزی اور ریاستی وزراء آج صبح بارامتی پہنچے اور وہ ودیا پرتشٹھان میدان میں اجیت پوار کے جسد خاکی پر پھول چڑھائیں گے اور ان کا آخری دیدار کریں گے۔

مہاراشٹر کی سیاست میں اجیت پوار کے بعد این سی پی (اجیت گروپ) کی قیادت کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پارٹی اور پوار خاندان سے جڑے پانچ نام سب سے مضبوط دعوے دار مانے جا رہے ہیں۔ پڑھیں ’دادا‘ کے پورے خاندان (کنبے) کی پروفائل…

اجیت پوار سے سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی نشان پربات نہیں بنی تو شرد پوار کی این سی پی مہا وکاس اگھاڑی کے پاس واپس لوٹ آئی ہے۔ اجیت پوارنے صرف 35 سیٹوں کی پیشکش کی تھی، جسے شرد پوار نے نامنظور کردیا۔ اس سے متعلق پنے کے شانتائی ہوٹل میں میٹنگ کی جارہی ہے۔

"آج سوشل میڈیا ایک بہت طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک بھی غلط بیان پورے تنظیم کی شبیہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اس لیے عوامی پلیٹ فارمز پر سوچ سمجھ کر بات کرنا ضروری ہے۔"

شرد پواراوراجیت پوارممبئی میں کوآپریٹوبینک کے ایک پروگرام میں ایک ہی اسٹیج پرنظرآئے۔ دونوں لیڈران ایک دوسرے کے قریب بیٹھے تھے۔ اس دوران وزیراعلی دیویندرفڑنویس بھی موجود تھے۔

حالانکہ سال 2019 میں بھی کچھ اسی رفتار سے ووٹنگ ہوئی تھی اور 61فیصد رائے  دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ممکن ہے کہ اس بار 61 فیصد سے زیادہ ہو لیکن پھر بھی مہاراشٹر کی عوام بڑی تعداد میں نکل کر ووٹ دیتی نظر نہیں آئی ۔

قریب 27سال کی عمر میں 1967 میں ایم ایل اے بننے کے بعد سے ایک ناقابل شکست سیاست دان کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا حوالہ دیتے ہوئے، 83 سالہ پوار نے کہا، "میرے اپنے تجربات ہیں، جنہوں نے دھوکہ دیا ہے، انہیں ان کی جگہ دکھانی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اجیت پوار کے گروپ کی این سی پی کو 36 گھنٹے کے اندر بڑے اخبارات میں گھڑی کے انتخابی نشان کے ساتھ اعلانیہ شائع کرنے کا حکم دیا۔

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی لیڈروں کی پارٹیاں بدلنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ انتخابی اعلان کے اگلے ہی دن یعنی بدھ 16 اکتوبر کو کانگریس کو اس وقت بڑا جھٹکا لگا جب پارٹی کے جنرل سکریٹری جاوید شراف نے اجیت پوار کی پارٹی سے ہاتھ ملالیا۔