نئی دہلی، 31 اکتوبر: اس سال موسمِ سرما نے توقع سے پہلے ہی دستک دے دی ہے۔ نومبر کے آغاز سے قبل ہی شمالی اور مشرقی ہند کے کئی علاقوں میں ٹھنڈی ہواؤں، بارش اور صبح کی دھند نے سردی کا احساس بڑھا دیا ہے۔ عام طور پر سردی کا آغاز دسمبر میں ہوتا ہے، لیکن اس بار اکتوبر کے اختتام تک ہی درجۂ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق، رواں برس معمول سے پہلے ’’کپکپاتی سردی‘‘ محسوس ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ہوا کے دباؤ، بارش اور ہواؤں کی رفتار میں تبدیلی کی وجہ سے سرد موسم نے اپنی آمد تیز کر دی ہے۔
دہلی میں دھند اور سرد ہواؤں نے بڑھائی پریشانی
ملک کی راجدھانی دہلی میں جمعرات کا دن دھند اور بادلوں سے ڈھکا رہا۔ ہوا میں نمی اور آلودگی کی وجہ سے پورے دن دھوپ بمشکل نظر آئی۔ درجۂ حرارت معمول سے نیچے رہا۔ دن کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت تقریباً 27 ڈگری اور کم از کم 20 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق، آئندہ کچھ دنوں تک دہلی میں یہی موسم برقرار رہنے کا امکان ہے۔ صبح کے وقت ہلکی ٹھنڈ اور دھند چھائی رہے گی جبکہ دن میں ہلکے بادلوں کے ساتھ فضائی آلودگی کا اثر بھی جاری رہے گا۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بچے، بزرگ اور دمے کے مریض احتیاط برتیں کیونکہ دھند کی شدت بڑھ سکتی ہے۔
مشرقی بھارت میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری
ملک کے مشرقی حصے میں اس وقت جھما جھم بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ انڈمان و نکوبار جزائر، مغربی بنگال، بہار اور سکم کے کئی علاقوں میں لگاتار بارش ہو رہی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے 31 اکتوبر اور یکم نومبر کے لیے درمیانی سے شدید بارش کا انتباہ جاری کیا ہے۔ بہار کے مختلف اضلاع میں بجلی چمکنے اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ مانسون کے بعد کی بارش نے نہ صرف درجۂ حرارت میں کمی کی ہے بلکہ کھیتوں میں نمی بڑھنے سے فصلوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔
اتر پردیش میں بارش اور گرتا درجۂ حرارت
اتر پردیش میں بھی سردی اور بارش کا دوہرا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لکھنؤ، کانپور، پریاگ راج اور آس پاس کے اضلاع میں جمعرات کے روز دن بھر تیز بارش ہوئی۔ جھانسی اور باندا میں درجۂ حرارت میں اچانک کمی دیکھی گئی۔ گازی پور، مئو، بلیہ اور دیوریا میں بھی شدید بارش کا الرٹ جاری ہے۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ یکم نومبر کے بعد آسمان صاف ہونے کا امکان ہے، تاہم صبح و شام کی ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شمال مغربی علاقوں میں برفباری کے آثار
پہاڑی ریاستوں ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں 3 سے 5 نومبر کے درمیان اونچائی والے علاقوں میں بارش کے ساتھ ہلکی برفباری کے امکانات ہیں۔ ماہرین نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ ان دنوں پہاڑوں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو گرم کپڑوں کے ساتھ روانہ ہوں۔ ادھر جموں و کشمیر کے بعض حصوں میں بھی درجۂ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے اور کئی علاقوں میں صبح کے وقت کہرہ (دھند) چھا رہی ہے۔
موسم بدلنے کے اشارے واضح
ماہرین کے مطابق، رواں سال مغربی ہواؤں کے بدلتے دباؤ اور خلیجِ بنگال میں بنے کم دباؤ والے نظام کی وجہ سے سردی نے وقت سے پہلے قدم رکھ دیا ہے۔ اکتوبر کے اختتام تک ملک کے بیشتر علاقوں میں خنکی کا احساس بڑھ گیا ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس بار سردی معمول سے زیادہ طویل اور سخت ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



