سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ (فائل فوٹو)
ہندوستان کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران قومی مفاد، قومی سلامتی اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تقریب میں موجود طلباء، اساتذہ اور معززین سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب وہ وقت نہیں جب ہم سیاحت یا درآمد کے ذریعے اپنے مفادات کے مخالف ممالک کو بااختیار بناتے رہیں۔
جے پوریا انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا ’’وہ وقت آ گیا ہے جب ہم میں سے ہر ایک کو اقتصادی قوم پرستی کے بارے میں گہرائی سے سوچنا چاہیے۔ بحران کے وقت ہمارے خلاف کھڑے ہونے والے ممالک کی معیشتوں کو بہتر بنانے کے لیے ہم سیاحت یا درآمدات پر خرچ نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہمیشہ ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے، اور وہ یہ ہے کہ ’’نیشن فرسٹ‘‘۔ ہر چیز کو قوم پرستی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔‘‘
آپریشن سندور کے لیے کی فوج کی تعریف
فوج کے آپریشن سندور کی تعریف کرتے ہوئے دھنکھر نے بھارت کی مسلح افواج کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں آپریشن سندور کی شاندار کامیابی پر تمام مسلح افواج اور وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت کو سلام کرتا ہوں۔ پہلگام میں ہونے والی بربریت کا یہ ایک قابل ذکر ردعمل تھا۔ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہمارے شہریوں پر یہ سب سے مہلک حملہ تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کے دل بہار سے پوری عالمی برادری کو پیغام بھیجا اور اسے سچ کر دکھایا۔‘‘
تعلیم اور تحقیق کو تجارتی نہ بنایا جائے: نائب صدر
نائب صدر جمہوریہ نے تعلیم اور تحقیق کو تجارتی بنانے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ملک تعلیم کی کمرشلائزیشن اور کموڈیفکیشن کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ہماری تہذیب کے مطابق تعلیم اور صحت پیسہ کمانے کے شعبے نہیں ہیں۔ یہ معاشرے کو واپس دینے کے شعبے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کارپوریٹس کی طرف سے مکمل طور پر مالی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



