لکھنؤ: اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 میں ابھی وقت ہے، لیکن ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اپنے پی ڈی اے فارمولے کے ذریعے پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی اتر پردیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ اویسی نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے 2 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔
اکھلیش کا پی ڈی اے اور اویسی کی حکمت عملی
سماج وادی پارٹی کا پی ڈی اے فارمولہ پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات پر مرکوز ہے۔ اکھلیش یادو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی اسی سماجی اتحاد کے ساتھ میدان میں اترے تھے۔ اب 2027 کے اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی اپنی سیاسی بنیاد کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری جانب اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم نے اتر پردیش میں تنظیمی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق پارٹی تقریباً 150 سے 200 اسمبلی حلقوں میں تنظیمی تیاری کر رہی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مسلم آبادی قابل ذکر ہے۔ بہرائچ، بجنور، سہارنپور، مرادآباد اور کانپور میں اویسی کی ریلیاں بھی ہوچکی ہیں۔
اویسی نے 2 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی
اویسی نے کہا ہے کہ وہ بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی اور کانگریس سمیت دیگر غیر بی جے پی جماعتوں کو ساتھ آنے کی دعوت دی ہے۔ اویسی کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم 2 اکتوبر تک اتحاد کے امکانات کا انتظار کرے گی اور اس کے بعد پارٹی اپنے اتحادی اور انتخابی حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کانپور کی ایک ریلی میں کہا کہ جو جماعتیں بی جے پی کے خلاف اتحاد بنانا چاہتی ہیں، انہیں اے آئی ایم آئی ایم کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیے۔
مسلم ووٹ پر کیوں ہے اتنی توجہ؟
اتر پردیش کی سیاست میں مسلم ووٹر کئی اسمبلی حلقوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سماج وادی پارٹی، کانگریس اور اے آئی ایم آئی ایم سمیت مختلف جماعتیں اس طبقے تک اپنی سیاسی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے لیے 2027 کا الیکشن ریاست میں اپنی انتخابی موجودگی بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے تقریباً 94 نشستوں پر امیدوار اتارے تھے اور اسے 0.49 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے، لیکن ایک بھی اسمبلی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
کچھ حلقوں میں اے آئی ایم آئی ایم کے امیدواروں کو ملنے والے ووٹ جیت اور ہار کے فرق سے زیادہ رہے تھے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں کرسی، بجنور، نقوڑ اور سلطان پور سمیت بعض نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد کامیاب اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدوار کے درمیان فرق سے زیادہ تھی۔ تاہم ان اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی ایک جماعت کو براہ راست فائدہ یا نقصان ہوا، کیونکہ انتخابی نتائج پر متعدد عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
مغربی یوپی پر اویسی کی خاص توجہ
اے آئی ایم آئی ایم کی سرگرمیوں میں مغربی اتر پردیش پر خاص توجہ نظر آ رہی ہے۔ سہارنپور، مرادآباد، بجنور، رامپور اور امروہہ جیسے علاقوں میں پارٹی اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اویسی نے جون میں بہرائچ سے اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد مختلف اضلاع میں ریلیاں کی ہیں۔ اویسی نے بہار انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا ہے کہ وہاں اے آئی ایم آئی ایم نے اپوزیشن اتحاد کے ساتھ نشستوں کی تقسیم کی کوشش کی تھی، لیکن بات نہیں بنی۔ اب وہ اتر پردیش میں اتحاد کے معاملے پر پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں۔
سماج وادی پارٹی اور کانگریس کا کیا موقف ہے؟
فی الحال سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ کسی حتمی انتخابی اتحاد کا اعلان نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اتر پردیش میں نشستوں کی تقسیم پر سماج وادی پارٹی کے ساتھ بات چیت کی تیاری کر رہی ہے۔ 28 ستمبر کی ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس نے اسمبلی انتخابات میں کم از کم 150 نشستوں پر الیکشن لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم حتمی نشستوں کی تقسیم پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔
اویسی کی جانب سے 2 اکتوبر کی ڈیڈ لائن نے اتر پردیش میں اپوزیشن اتحاد کی سیاست کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کس جماعت کے ساتھ اتحاد کرتی ہے یا پھر الگ انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ 2027 کے انتخابات میں اس فیصلے کا اثر کن حلقوں میں کتنا پڑے گا، یہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




