Bharat Express DD Free Dish

حکومت نے حد بندی بل پر مانگی حمایت تو ڈٹ گئے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کہا- ’’نہیں، پہلے امت شاہ…‘‘ اب کیا ہے آگے کی حکمت عملی

 پارلیمنٹ میں جاری تعطل کے درمیان مرکزی وزیرکرن رجیجو نے راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی سے تقریباً 50 ملاقات کی۔ میٹنگ میں دہلی پولیس کی کارروائی، وزیرداخلہ کے بیان، حد بندی بل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم کرنے کی کوششوں کے تحت مرکزی وزیربرائے پارلیمانی امورکرن رجیجونے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا سے تقریباً 50 منٹ تک ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران پارلیمنٹ کی کارروائی معمول پرلانے اورحکومت اوراپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مختلف امورپرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، راہل گاندھی نے کرن رجیجوسے واضح طورپرکہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ دہلی پولیس کی جانب سے مظاہرین پرمبینہ لاٹھی چارج کے معاملے پرپارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیرداخلہ ایوان میں آکراس معاملے پربیان دیں۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ حکومت کواس معاملے میں پارلیمنٹ کے اندرجواب دینا چاہئے۔

حد بندی اورایف سی آراے بل پرتبادلہ خیال

ملاقات کے دوران حکومت کی جانب سے مجوزہ حد بندی (ڈی لمیٹیشن) اورایف سی آراے ترمیمی بل پربھی بات چیت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، کرن رجیجونے راہل گاندھی اورپرینکا گاندھی سے ان دونوں بلوں پرتعاون اورحمایت کی درخواست کی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اہم قانون سازی کے سلسلے میں اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ اتفاق رائے قائم کیا جائے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان معاملات پرراہل گاندھی نے ابھی کوئی حتمی ردعمل نہیں دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ جمعرات تک اس حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔

کانگریس سمیت دیگراپوزیشن پارٹیوں سے بھی مسلسل رابطے میں ہے حکومت

ذرائع کے مطابق، مرکزی حکومت صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ دیگرسیاسی پارٹیوں کے ساتھ بھی حد بندی بل پرمسلسل رابطے میں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس بل پروسیع اتفاق رائے قائم ہوتاکہ پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنے اورمنظورکرانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ فی الحال پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم کرنے کے لیے حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ آئندہ چند دنوں میں دونوں فریقوں کے موقف سے یہ واضح ہوگا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی معمول کے مطابق بحال ہوپاتی ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read