سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے خلاف ای ڈی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
Umesh Pal Murder Case: امیش پال قتل سانحہ کے بعد سے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کی فیملی کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف ایس ٹی ایف اور پریاگ راج پولیس مل کران کے گروہ اورفیملی کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ وہیں اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی عتیق احمد کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حالانکہ پہلے بھی ای ڈی عتیق احمد کے خلاف کارروائی کرچکی ہے، لیکن اب جانچ مزید تیزکردی گئی ہے اوراس سے متعلق فائلوں کو کھنگالنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ای ڈی عتیق احمد کی 8 کروڑ روپئے کی جائیداد پہلے ہی ضبط کرچکی ہے۔ جبکہ یوپی پولیس اورانتظامیہ نے 1163 کروڑ روپئے کی جائیداد پرکارروائی کی ہے۔ واضح رہے کہ ای ڈی نے 2 سال پہلے عتیق احمد کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا تھا۔ نومبر2021 میں ای ڈی لکھنؤ دفترکے اس وقت کے جوائنٹ کمشنر راجیشورسنگھ کی ہدایت پر پریاگ راج میں پھول پور واقع زمین اٹیچ کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ جائیداد عتیق احمد نے اپنی اہلیہ شائستہ پروین کے نام پر 4.50 کروڑ روپئے میں خریدی تھی۔ شائستہ پروین کے اکاؤنٹ کی 1.28 کروڑ اور کئی دیگر اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع رقم بھی ای ڈی نے اٹیچ کرلی تھی۔
امیش پال قتل سانحہ سے عتیق احمد کی مشکلات میں اضافہ
ذرائع کے مطابق، بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی راجو پال قتل سانحہ کے اہم گواہ اور ان کے قریبی رشتہ دار امیش پال کے قتل کے بعد ای ڈی ہیڈ کوارٹر نے عتیق احمد کے خلاف معاملہ درج کرکے جلد ازجلد کارروائی کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ ای ڈی کے افسران عتیق احمد کی پریاگ راج، کوشامبی اورلکھنؤ واقع تقریباً 60 کروڑ روپئے کی جائیداد کی فائلیں دیکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2017 میں یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں حکومت بننے کے بعد سے مافیا ڈان عتیق احمد کے خلاف شکنجہ کستا جا رہا ہے، لیکن امیش پال قتل سانحہ معاملے میں اس کے اہم ملزم کے طورپرنام سامنے آنے کے بعد حکومت اورانتظامیہ چوطرفہ کارروائی کے حق میں دکھائی دے رہی ہیں۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


