Bharat Express DD Free Dish

Firing Case in Gurdaspur: پنجاب کے گورداسپور میں دو فریقین نے کی ایک دوسرے پر فائرنگ، چار افراد ہلاک

اس واقعے پر پنجاب میں سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے اس واقعہ کو لے کر پنجاب کی بھگونت مان حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفاکانہ واقعہ امن و امان برقرار رکھنے میں عآپ حکومت کی ایک اور ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔

پنجاب کے گورداسپور میں دو فریقین نے کی ایک دوسرے پر فائرنگ، چار افراد ہلاک

Firing Case in Gurdaspur: پنجاب کے ضلع گورداس پور میں پرانی دشمنی پر دو فریقین نے ایک دوسرے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے دو دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ واقعہ کے وقت دونوں اطراف کے کل 13 افراد موقع پر موجود تھے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ بٹالہ کے وتھوان گاؤں میں اتوار کی رات پیش آیا۔ فائرنگ کے اس واقعے میں آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

سرسا نے بھگونت مان کو بنایا نشانہ

اس واقعے پر پنجاب میں سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے اس واقعہ کو لے کر پنجاب کی بھگونت مان حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفاکانہ واقعہ امن و امان برقرار رکھنے میں عآپ حکومت کی ایک اور ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں- Jharkhand Floor Test: ہیمنت سورین نے حاصل کیا اعتماد کا ووٹ، جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ نے کہا – ‘ایم ایل اے کی تعداد کا نصف بھی…’

سرسا نے ایکس پر لکھا، بٹالہ کے وتھوان گاؤں میں دو فریقین کے درمیان جاری جھگڑے کی وجہ سے چار افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ وحشیانہ واقعہ امن و امان برقرار رکھنے میں عآپ حکومت کی ایک اور ناکامی کو اجاگر کرتا ہے۔ جب سے عام آدمی پارٹی اقتدار میں آئی ہے، پنجاب کسی کی زمین نہیں رہ گیا ہے۔ انہوں نے سی ایم بھگونت مان سے پوچھا کہ آخر کار کارروائی سے پہلے اور کتنی جانیں ضائع ہوں گی؟

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read