وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ہر حال میں اس قانون کو ماننا ہی پڑے گا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’یہاں ایک رکن نے کہہ دیا کہ اقلیتی طبقہ اس قانون کو منظور نہیں کرے گا۔ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے، سب کو قبول کرنا پڑے گا۔ کیسے کوئی بول سکتا ہے کہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ یہ قانون حکومت ہند کا ہے، اور اسے قبول کرنا ہی پڑے گا۔‘‘
#WATCH | #WaqfAmendmentBill | Union Home Minister Amit Shah says, “…Had Waqf not been amended in 2013, this (Amendment Bill) Bill would not have been needed. Everything was going well. But there were elections in 2014, and overnight in 2013, the Waqf Act was turned extreme for… pic.twitter.com/mfI0iv4vtK
— ANI (@ANI) April 2, 2025
اس سے قبل کرن رجیجو نے لوک سبھا میں بحث کے دوران کہا کہ 2013 میں دہلی وقف بورڈ نے پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی وقف املاک قرار دے دیا تھا، لیکن یو پی اے حکومت نے اسے ڈینوٹفائی کر دیا تھا۔ اگر موجودہ حکومت ترمیم نہ لاتی تو پارلیمنٹ کی عمارت بھی وقف املاک ہوتی۔
وقف ترمیمی بل کہیں سے بھی غیر آئینی نہیں: روی شنکر پرساد
بی جے پی رہنما روی شنکر پرساد نے وقف ترمیمی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ایک ساتھ دو متضاد مؤقف اختیار کر رہی ہے، ایک طرف ترمیم کی بات ہو رہی ہے اور دوسری طرف اس کی مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 15 میں واضح ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جائے گا اور حکومت اس حوالے سے قانون بنا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بہت سے پسماندہ مسلمان ہیں، جنہیں وقف کے انتظام میں مواقع نہیں ملتے۔ اگر یہ بل انہیں موقع فراہم کرنے کا راستہ کھولتا ہے تو اپوزیشن کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟ روی شنکر پرساد نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وقف کی زمینوں پر قبضہ ہو رہا ہے یا انہیں ضائع کیا جا رہا ہے تو آرٹیکل 25 کے تحت قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل مکمل طور پر آئینی ہے اور اسے غیر آئینی قرار دینا غلط ہوگا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


