پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک میں غم و غصے کا ماحول ہے اور بھارتی حکومت بھی ایکشن موڈ میں ہے۔ اس دوران سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ہفتہ کو ایک بیان دیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے 31 سال قبل آزادی کے امرت کال میں پاس کی گئی قرارداد کو پورا کیا جائے جس میں کہا گیا تھا کہ پی او کے ہندوستان کا حصہ ہے اور اسے پاکستان کے ناجائز قبضے سے آزاد کرانا ہے۔ اس حوالے سے مختار عباس نقوی کے دفتر سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی ہے۔
مختار عباس نقوی نے کیا کہا؟
مختار عباس نقوی کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اتر پردیش کے ضلع رام پور میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے انسانیت کا خون کرنے والے انسانیت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں‘‘۔ اس دوران بی جے پی لیڈر نے کہا، ‘ملک کے دشمنوں کو سبق سکھانے کے لیے ملک کی ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط اور محفوظ رکھنا ہوگا۔ آزادی کے اس امرت کال میں، پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) کو ہندوستان کا حصہ بنانے کے لیے پارلیمنٹ کی قرارداد کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر 22 فروری 1994 کو پی او کے کو بھارت کا حصہ قرار دینے اور اسے پاکستان کے غیر مجاز قبضے سے آزاد کرانے کی قرارداد منظور کی۔ اسی لیے جموں و کشمیر اسمبلی کی 24 نشستیں محفوظ کی گئی ہیں۔
پاکستان کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت
مختار عباس نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے پروپیگنڈے سے دور رہنے اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، “اس سے کہو کہ وہ اپنی دماغی حالت کی جانچ کرائے، وہ کس طرح کے بیانات دے رہے ہیں؟ بہت ہوگیا، اب ہم یہ سب برداشت نہیں کریں گے۔ اب کچھ دن انتظار کریں۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
