Bharat Express DD Free Dish

POK

رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب جے اے اے سی کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی اچانک شدت اختیار کر گئی۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرتے ہوئے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھلے ہی سندھ آج ہندوستان کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی تہذیب اور ثقافت ہمیشہ ہندوستان سے جڑی رہے گی۔ انہوں نے سرحدوں کو تبدیل کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا، تجویز پیش کی کہ سندھ مستقبل میں ہندوستان میں شامل ہوسکتا ہے۔

 پاکستان کے پی او کے(کشمیر )میں اس درجے کا عوامی احتجاج گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔ مقامی آبادی میں حکومت پاکستان کے خلاف بڑھتی بے چینی اور عدم اعتماد اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ تحریک ایک وسیع تر سیاسی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ہندوستان اپنی ناکافی طور پر محفوظ طویل ساحلی پٹی کے علاوہ مغرب، شمال اور شمال مشرق میں اپنی غیر محفوظ سرحدوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ہندوستان میں داخل ہونے والے یا رہنے والے دہشت گردوں اور باغیوں کو بہت سے ذرائع سے خاص طور پر بیرون ملک واقع ایجنسیوں سے زبردست مادی امداد اور فنڈز ملتے رہتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کے جواب میں، رہائشیوں نے ایک عوامی جرگہ - ایک روایتی کمیونٹی کونسل - کی تجویز پیش کی ہے تاکہ بھرتی کی مہموں اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی اجتماعی مخالفت کی جا سکے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس منصوبہ بند جرگہ سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کمیونٹی کی مزاحمت کو تقویت ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کانگریس کی غلطی ہے اور اگر کانگریس نے تقسیمِ ہند کو قبول نہ کیا ہوتا تو آج پاکستان وجود میں نہ آتا۔

منیر نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے کشمیری عوام کی خواہش کو دبانے کی کوشش کی ہے اور حل کے بجائے تنازعات کے خاتمے کی کوشش کی ہے انھوں نے اپنے اقدامات سے اس تحریک کو مزید متعلقہ بنایا ہے۔

پاک مقبوضہ کشمیر(پی اوکے) کے 13 حلقوں میں خوراک، ادویات اوردیگرتمام بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے ایک ارب روپئے کا ہنگامی فنڈ بنایا گیا ہے۔

پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی حکومت ایکشن موڈ میں ہے۔ دریں اثناء سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ایک بیان میں کہا کہ 31 سال قبل پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پی او کے ہندوستان کا حصہ ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی مسئلہ کشمیر پر بیان دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) کو خالی کرکے مسئلہ کشمیر کو مکمل طور پر حل کیا جائے گا۔