پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ جس چیز پر جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا ’’لیبل‘‘ لگایا گیا ہے وہ ’’آزادی کی جائز جدوجہد‘‘ ہے۔ پاکستانی جنرل نے مزید کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ عاصم منیر نے بھارت کو مستقبل میں کسی بھی حملے کی صورت میں ’’مناسب جواب‘‘ دینے کا بھی انتباہ دیا۔
ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی، کراچی میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عاصم منیر نے کہا کہ ’’بھارت جس چیز کو دہشت گردی کا نام دیتا ہے، وہ دراصل آزادی کے لیے ایک جائز اور قانونی جدوجہد ہے، جسے بین الاقوامی قانون نے بھی تسلیم کیا ہے۔‘‘ منیر نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے کشمیری عوام کی خواہش کو دبانے کی کوشش کی ہے اور حل کے بجائے تنازعات کے خاتمے کی کوشش کی ہے انھوں نے اپنے اقدامات سے اس تحریک کو مزید متعلقہ بنایا ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے سے پہلے بھی عاصم منیر نے دیا تھا بھڑکاؤ بیان
عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا اور پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کا پرزور وکیل ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے سے قبل ہی عاصم منیر نے اپنے ایک بیان میں کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا، جس کا ہندوستان نے منہ توڑ جواب دیا تھا اور کہا تھا کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
اب دوبارہ عاصم منیر کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی بڑھی ہوئی کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ ہندوستان نے بارہا واضح کر دیا ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہندوستان نے اقوام متحدہ میں بھی بارہا اس سلسلے میں پاکستانی کے ناجائز موقف اور اس کی دہشت گردی کی حمایت کو اجاگر کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




