نئی دہلی: تمل ناڈوکی سیاست میں حکومت اورگورنرکے درمیان تنازعات کی خبریں اکثرسامنے آتی رہتی ہیں۔ ایسے وقت بھی آئے ہیں جب گورنراورحکومت کے درمیان واضح مخاصمت ظاہرہوئی ہے۔ اب حکومت نے ایک بارپھرکلیگناریونیورسٹی بل سے متعلق گورنرکے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس معاملے میں حکومت نے گورنرکے فیصلے کوچیلنج کیا ہے۔
تمل ناڈوحکومت نے گورنرکے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ عرضی صدرجمہوریہ کی منظوری کے لئے کلیگنار یونیورسٹی بل کومحفوظ رکھنے کے گورنر کے فیصلے کو چیلنج کرتی ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے تمل ناڈو کے گورنرآراین روی کوبھی پھٹکار لگائی تھی۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
تمل ناڈومیں ریاستی حکومت اورگورنرکے درمیان یہ دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پورا تنازعہ بلوں کی منظوری سے متعلق ہے۔ اس سارے تنازعہ کی جڑیونیورسٹی وائس چانسلربل ہے۔ ریاستی حکومت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلروں کی تقرری کوتبدیل کرنے کی تجویزپیش کی۔ اس تجویزسے گورنرکے بجائے وزیراعلیٰ کووائس چانسلرکی تقرری کا ذمہ داربنایا جاتا۔ بل کے منظورہونے کے بعد گورنرنے اسے منظورنہیں کیا۔ مزید، تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب آراین روی نے وائس چانسلروں کی تقرری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ تمل ناڈو حکومت نے اس کمیٹی کی مخالفت کی اورمعاملہ سپریم کورٹ میں لے گیا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا۔ اب ریاستی حکومت نے ایک بارپھراس تنازعہ کولے کرسپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود تاخیر
حالانکہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا، لیکن گورنرنے اس بل کومنظوری نہیں دی ہے۔ عدالت نے واضح طورپر کہا کہ گورنرکوایک ماہ یا زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندربل پرفیصلہ لینا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی گورنر نے اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ سٹالن حکومت نے پہلے اس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گورنر اہم تعلیمی بلوں میں تاخیر کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



