نئی دہلی: راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مساجد، مدارس، درگاہوں، مکانات اوردیگرتعمیرات کے خلاف جاری انہدامی کارروائیوں کے معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے دائر خصوصی عرضی پرسماعت کرتے ہوئے متاثرہ افراد کواہم عبوری راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ املاک کے خلاف دوہفتوں تک تمام انہدامی کارروائیوں پرروک عائد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ درخواست گزاراپنے قانونی اورآئینی نکات کے ساتھ راجستھان ہائی کورٹ، جودھپورکی ڈویژن بنچ سے رجوع کریں۔ صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔
واضح رہے کہ 20 جون 2026کوجمعیۃ علماء ہند کا ایک اعلیٰ سطحی وفد راجستھان کے متاثرہ سرحدی اضلاع پہنچا تھا، جس نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اورانہدامی کارروائیوں کی تفصیلات جمع کیں۔ وفد کی رپورٹ کی بنیاد پرمتاثرین کی جانب سے تقریباً 40 عرضیاں راجستھان ہائی کورٹ، جودھپورمیں دائر کی گئیں، جب کہ دیگرمتاثرین نے بھی انفرادی طورپرعدالت سے رجوع کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی طورپرتقریباً 60 مقدمات عدالت کے سامنے آئے۔7 جولائی کو دلائل مکمل ہونے کے بعد راجستھان ہائی کورٹ نے 13 جولائی کواپنا فیصلہ سنایا، تاہم مطلوبہ قانونی راحت نہ ملنے پرجمعیۃ علماء ہند نے فوری طورپرسپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس درمیان جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، نائب صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا قاری محمد امین، صدرجمعیۃ علماء راجستھان مولانا حبیب اللہ قاسمی، ناظم اعلی ٰمولانا عبد الواحد کھتری وغیرہ مسلسل متاثرین اوروکلاء سےر ابطے میں رہے۔ ایڈوکیٹ طاہرحکیم نے ہائی کورٹ میں بھی جمعیۃ علماء ہند کی نمائندگی کی۔
کپل سبل نے عدالت میں دی یہ اہم دلیل
سماعت کے دوران سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کوبتایا کہ مکانات، مساجد، مدارس اوردیگراملاک کے خلاف مسلسل انہدامی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ سیکڑوں مذہبی ورہائشی املاک کونوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ کسی بھی مذہبی مقام یا شہری کی ملکیت کے خلاف کارروائی صرف آئین، قانون اورفطری انصاف کے اصولوں کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے، نہ کہ انتظامی اختیارات کے یکطرفہ استعمال کے ذریعے۔ اس لیے اگرفوری عبوری تحفظ نہ دیا گیا توناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے دوہفتوں تک انہدامی کارروائی پرعبوری روک لگاتے ہوئے واضح کیا کہ اس نوعیت کے معاملات میں متنازعہ حقائق کا تفصیلی جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ ہی لے سکتی ہے۔ اسی لیے عدالت نے عرضی گزاروں کوراجستھان ہائی کورٹ، جودھپورکی ڈویژن بنچ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت عظمیٰ نے انہدامی کارروائی سے متعلق دیا یہ حوالہ
عدالت آج ایک بارپھراپنے 13 نومبر2024 کے تاریخی فیصلے میں طے کردہ اصولوں کا بھی حوالہ دیا اورواضح کیا کہ کسی بھی انہدامی کارروائی میں قانونی طریقۂ کار، قدرتی انصاف اورآئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جہاں عوامی اراضی پرغیرمجازتجاوزات ثابت ہوں، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم ہرمقدمہ اپنے حقائق کے مطابق پرکھا جائے گا اورسپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی روشنی میں متعلقہ ہائی کورٹ مناسب فیصلہ کرے گی۔
دریں اثنا جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے مطابق، راجستھان ہائی کورٹ، جودھپورکی ڈویژن بنچ سے فوری رجوع کریں گے۔ جمعیۃ علماء ہند متاثرہ شہریوں، مساجد، مدارس اوردیگر مذہبی مقامات کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر پوری قوت کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ قانون اور انصاف کی بالادستی قائم ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




