Bharat Express DD Free Dish

Rajasthan News

کشن گڑھ میں گاڑی کی پارکنگ کو لے کر ٹریفک سی او انجو یادو اور وکیل بابولال باگریا کے درمیان تنازع، وکلا نے سڑک جام کرکے احتجاج کیا۔

راجستھان کے کرولی ضلع کے سپوٹرا علاقے میں مسلسل بارش اور راستوں پر غیر قانونی تجاوزات کے باعث دَیارام پورہ اور آس پاس کے درجنوں گاؤں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ ایمبولینس بھی گاؤں تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کے باعث دیہاتی مریضوں کو چارپائی پر لٹا کر کئی کلومیٹر دور اسپتال لے جانے پر مجبور ہیں۔

الور کے ایک سرکاری اسکول کے پرنسپل کا نابالغ طالبات کے ساتھ ڈیم کے پانی میں نہاتے ہوئے مبینہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا۔ محکمہ تعلیم نے پرنسپل کو معطل کرکے اعلیٰ سطحی جانچ شروع کردی ہے، جبکہ پولیس وائرل ویڈیو اور الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ہاسٹل کے کھانے اور انتظامات سے ناراض طالبات نے ضلع انتظامیہ کے سامنے اپنی شکایات رکھیں، کلکٹر نے معاملے کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات دیے

راجستھان کے ضلع دوسا میں شام کسان لیڈر آنجہانی راجیش پائلٹ کی یاد میں پروگرام منعقد ہوگا۔ اس موقع پر شری شری 1008 شری مد جگدگرو شری کلکی پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم جی مہاراج، راجیش پائلٹ کے مجسمے پر گلپوشی کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کریں گے۔

جے پور کے عامیر علاقے میں سبزیوں کی آڑ میں کی جانے والی گانجے کی غیر قانونی کاشت کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے ایک کھیت سے 3,347 گانجے کے پودے، جن کا مجموعی وزن 481 کلوگرام سے زائد بتایا جا رہا ہے، ضبط کر لیے ہیں۔ اس معاملے کا ملزم کسان موقع سے فرار ہو گیا، جبکہ پولیس اس کی تلاش میں مصروف ہے۔

راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر ٹیکارام جولی نے ’یوا سنواد‘ پروگرام کے دوران نوجوانوں سے براہِ راست گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے کانگریس اور نوجوانوں کے تعلقات، جمہوری اقدار اور نوجوانوں کے کردار پر تفصیل سے بات کی۔

صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر 40 متاثرین کی جانب سے دائراس عرضی کی سماعت کے دوران جمعیۃ کی طرف سے سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے تفصیلی اورمؤثردلائل پیش کئے، جبکہ سینئر وکلاء حذیفہ احمدی، نظام پاشا، طاہرحکیم اورایڈوکیٹ آن ریکارڈ منصورعلی خاں نے بھی مقدمے کی پیروی کی۔ اس کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمبھا اورجسٹس آلوک ارادھے کی بنچ کے سامنے ہوئی۔

مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارت-پاکستان سرحد سے متصل علاقوں کا سروے کیا تھا۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ چند برسوں میں ضلع مجسٹریٹ کی منظوری کے بغیر سرحد سے 50 کلو میٹر کے دائرے میں متعدد مدارس، مساجد، درگاہیں اور دیگر ڈھانچے تعمیر کئے گئے ہیں۔

اے پی سی آرنے واضح کیا کہ گرچہ قومی سلامتی اورسرحدی انتظام انتہائی اہم ہیں، تاہم تمام انتظامی اقدامات آئین ہند، قانون کی حکمرانی اورانصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ تنظیم کے مطابق قومی سلامتی اورشہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کئی اہم قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ کیا متاثرہ فریقین کوواقعی مؤثرسماعت کا موقع ملا؟