Bharat Express DD Free Dish

Azam Khan and Abdullah Azam Appeal Dismissed: سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو عدالت سے بڑا جھٹکا، اپیل خارج، سزا برقرار

اس کیس میں ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے 17 نومبر 2025 کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی 50-50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو عدالت سے بڑا جھٹکا، اپیل خارج، سزا برقرار

سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو سیشن کورٹ سے بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ دو پین کارڈ معاملے میں عدالت نے دونوں کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ اس فیصلے کے بعد باپ بیٹے کو فی الحال کسی بھی قسم کی فوری راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور دونوں بدستور جیل میں قید ہیں۔ تفصیلات کے مطابق یہ پورا معاملہ سال 2019 کا ہے، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر آکاش سکسینہ نے درج کرایا تھا۔ الزام ہے کہ عبداللہ اعظم نے مختلف تاریخ پیدائش کی بنیاد پر دو الگ الگ پین کارڈ حاصل کیے تھے، جو قانونی طور پر جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اس معاملے کی جانچ کے دوران اعظم خان کا کردار بھی زیر تفتیش آیا، جس کے بعد دونوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

اس کیس میں ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے 17 نومبر 2025 کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی 50-50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اعظم خان اور عبداللہ اعظم نے 25 نومبر 2025 کو سیشن کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ تاہم 20 اپریل 2026 کو سیشن کورٹ نے اس اپیل کو بھی خارج کر دیا، جس کے بعد نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا برقرار رہی۔ عدالت کے اس فیصلے نے دونوں لیڈروں کی قانونی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد اب ان کے پاس اعلیٰ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم نومبر 2025 سے رامپور کی ضلع جیل میں قید ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی کی امیدیں مزید کمزور پڑ گئی ہیں۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں قیدیوں کو عام قیدیوں کی طرح رکھا گیا ہے اور انہیں کسی قسم کی خصوصی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ اعظم خان کو ستمبر 2025 میں ایک مقدمے میں جیل سے رہائی ملی تھی اور اس دوران ان کے بیانات بھی کافی سرخیوں میں رہے تھے۔ تاہم رہائی کے صرف 55 دن بعد ہی 18 نومبر 2025 کو عدالت کے فیصلے کے بعد انہیں دوبارہ جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل جیل میں ہی بند ہیں۔

قانونی حلقوں میں اس فیصلے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ معاملہ دستاویزی جعلسازی اور سرکاری ریکارڈ میں تضاد سے متعلق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں عدالتیں عموماً سخت رویہ اختیار کرتی ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ ادھر ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اعظم خان کے وکلا اب اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی جائے گی۔ تاہم جب تک کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوتا، تب تک اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو جیل میں ہی رہنا ہوگا اور انہیں قانونی عمل کا انتظار کرنا پڑے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read