Bharat Express DD Free Dish

Mohan Bhagwat’s statement on Muslims: کبھی آ کر آر ایس ایس کو دیکھو…اگر لگتا ہے…ہم مسلم مخالف ہیں…تو…‘‘، کولکاتا میں موہن بھاگوت نے کہہ دی بڑی بات

موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔

کولکاتا: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت چار روزہ دورے پر مغربی بنگال میں ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے کولکاتا کے سائنس سٹی آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس مسلمانوں کا مخالف نہیں ہے۔ جو لوگ حقیقت دیکھنا چاہتے ہیں، وہ آ کر خود دیکھ سکتے ہیں۔ آر ایس ایس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہا ہے۔

سنگھ میں کوئی دروازہ بند نہیں

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا میں سنگھ سربراہ موہن بھاگوت نے ’کولکاتا لیکچر سیریز، تیسرا اجلاس — سنگھ کے 100 سالہ سفر: نیو ہورائزنز‘ کے عنوان سے منعقدہ پروگرام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ یہ ایک عام تاثر بنا دیا گیا ہے کہ سنگھ مسلم مخالف ہے، جبکہ سنگھ میں کوئی دروازہ بند نہیں ہے۔ کبھی آ کر آر ایس ایس کو دیکھئے۔ اگر لگتا ہے کہ ہم مسلم مخالف ہیں تو ایسے تاثر قائم کیجئے۔

اب سمجھانے کی ضرورت نہیں

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ سنگھ مسلمانوں کا مخالف ہے تو آپ اپنی سوچ بدلیے۔ میں کہتا ہوں کہ اب سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ سمجھنے کے لیے آپ کے سامنے بہت کچھ موجود ہے، اور جسے نہیں سمجھنا ہے، اسے سمجھا کر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر جاننا ہے تو آ کر دیکھئے، اس کے بعد جیسی بھی آپ کی رائے بنتی ہے، بنا لیجئے۔

آپ لوگ مسلم مخالف نہیں ہیں

سنگھ سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ آ کر آر ایس ایس کو دیکھئے۔ بہت لوگ ہمیں دیکھنے کے لیے آئے ہیں اور دیکھنے کر انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ آپ لوگ مسلم مخالف نہیں ہیں۔ آپ لوگ کٹر راشٹراوادی ہیں اور ہندوؤں کے تحفظ کے حق میں ہیں، لیکن مسلمانوں کے مخالف نہیں ہیں۔

ہم ایک ہی اکائی کے حصے ہیں

موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

مندر-مسجد کا تنازع ختم ہو گیا

انہوں نے کہا کہ ایک جھگڑا شروع ہوا اور آخرکار معاملہ عدالت کے پاس پہنچا۔ عدالت نے طویل غور و فکر کے بعد فیصلہ دیا اور وہاں رام مندر تعمیر ہو گیا۔ مندر-مسجد کا تنازع ختم ہو گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اب دوبارہ بابری مسجد بنا کر اس جھگڑے کو شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک سیاسی سازش ہے۔ یہ صرف ووٹوں کے لیے ہو رہا ہے۔ نہ یہ مسلمانوں کے لیے ہے اور نہ ہی ہندوؤں کی بھلائی کے لیے۔ جھگڑا ختم ہو رہا ہے اور بہتر ہم آہنگی قائم ہوگی۔ لیکن اس طرح دوبارہ کھائی کو چوڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read