Bharat Express DD Free Dish

Rashtriya Swayamsevak Sangh

ڈاکٹر موہن بھاگوت نے پنچ پریورتن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پانچوں نکات، یعنی سماجی ہم آہنگی، خاندانی اقدار کی بیداری، ماحولیات کا تحفظ، خود شناسی اور سودیشی، نیز شہری نظم و ضبط کو سماج کے تمام طبقات اور سطحوں پر پذیرائی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ان اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔

’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، ترنمول کانگریس کے ترجمان اور بیلی گھاٹا کے رکن اسمبلی کنال گھوش نے سلی گوڑی کے واقعے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے قبول نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ذائقے کو مذہبی حدود میں نہیں باندھا جاسکتا۔انہوں نے کہا، کسی ہندو کی دکان کی بریانی بہت مزیدار ہوسکتی ہے، تو کسی مسلمان کی دکان کی بریانی کا ذائقہ بھی شاندار ہوسکتا ہے۔ کھانے کی پہچان اس کے ذائقے سے ہوتی ہے، مذہب سے نہیں۔ ایسے فرمان قبول نہیں کیے جاسکتے۔

پترودا نے کہا کہ جس بھارت میں وہ بڑے ہوئے، وہ تمام برادریوں کا بھارت تھا۔ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ دتاتریہ ہوسبالے کا بیان رام مندر کے کروڑوں روپے کے چڑھاوے اور دان میں لوٹ کی حقیقت سامنے لانے کے لیے نہیں بلکہ سچائی پر پردہ ڈال کر سنگھ کی شبیہ بچانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

پیر کے روز امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا، جن سنگھ کے بانی رکن اور ممتاز قوم پرست مفکر سندر سنگھ بھنڈاری کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور تنظیم کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

موہن بھاگوت نے کہا، ’’جو لوگ اتحاد اور ہم آہنگ بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں، وہی ہندو سماج اور بھارت کے حقیقی کردار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہندو کہلاتے ہیں اور ان کی سرزمین بھارت کہلاتی ہے۔‘

اٹل بہاری واجپائی کی صد سالہ سالگرہ اور شریکانت شنکر جوشی کی یاد میں نئی دہلی سمینار نے ثقافتی اقدار، اتحاد اور سوادیشی کو ملک کی ترقی کے سفر سے جوڑا۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں آبادی یا تو مستحکم ہو رہی ہے یا کم ہو رہی ہے۔ چین، جاپان، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں آبادیاتی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جہاں کام کرنے والی آبادی کم ہو رہی ہے اور بزرگوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس بھارت اب بھی نوجوان آبادی والا ملک ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے نے کہا کہ سولر پلانٹ کی تنصیب ملک کی خدمت کے یَگیہ میں ایک چھوٹی قربانی کی مانند ہے۔ سنگھ مستقبل کی ضروریات کے مطابق کام کرتا ہے۔