Bharat Express DD Free Dish

Mohan Bhagwat Speech

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ آج کا نوجوان تقریباً 30 سال بعد عمر رسیدہ ہو جائے گا، اس لیے اسے صرف اپنے مستقبل کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان صرف ذاتی مفادات تک محدود ہو گئے اور معاشرے سے دور ہو گئے تو ملک کی نوجوان آبادی کی طاقت ہی مستقبل میں ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ بھائی چارہ ہماری بنیادی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”بھائی چارہ ہماری روایت ہے، لڑائی جھگڑا ہمارے مزاج میں نہیں ہے۔ ہم قوم پرستی نہیں بلکہ قومیت کی بات کرتے ہیں، کیونکہ متکبر قوم پرستی نے دو عالمی جنگیں کرائی تھیں“۔

راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ 75 سال میں ریٹائرہونے کی ضرورت ہے۔ نہ میں ریٹائرہوں گا، نہ کسی کو ریٹائر ہونے کے لئے کہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب تک چاہیں، کام کرسکتے ہیں۔

موہن بھاگوت نے کہا کہ سنگھ کا قیام بھارت کو مرکز میں رکھ کر کیا گیا ہے اور سنگھ کا سفر آہستہ ضرور ہے مگر مسلسل ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کا مقصد صرف ہندو سماج کو منظم کرنا ہے، نہ کہ کسی کے خلاف کھڑا ہونا۔

آر ایس ایس سربراہ نے تعلیم کے مقصد کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے ذریعے لوگوں کو آزادانہ طور پر زندگی گزارنے اور معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔ تعلیم صرف اسکولنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں گھر اور معاشرے کا ماحول بھی شامل ہے۔

ہندوستانی سیاست میں لیڈران کی زیادہ سے زیادہ عمر سے متعلق یہ تنازعہ ایک بار پھر راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت کے ناگپور میں کیے گئے ایک تبصرے سے شروع ہوا ہے۔ اپوزیشن اس تبصرہ سے متعلق پی ایم مودی کو نشانہ بنا رہا ہے۔

آبادی میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ انسانی شرح پیدائش کو 1 پر نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے کم از کم 2 یا 3 بچے پیدا ہونے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبادی میں اضافے کی درست شرح کو برقرار رکھنا ملک کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔

فیروز پور میں چین کا تیار کردہ ڈرون برآمد ہوا ہے۔ اس پر کانگریس لیڈر نے کہا، پنجاب الیکشن سے پہلے سرحدی علاقہ بڑھا دیا گیا تھا۔ بی ایس ایف کے آپریشن کا دائرہ بڑھا دیا گیا۔ بی ایس ایف مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ کے تحت آتا ہے۔ امت شاہ کو بتانا چاہئے کہ چینی ڈرون پنجاب میں منشیات اور ہتھیار کیسے سپلائی کر رہے ہیں۔

موہن بھاگوت نے مودی حکومت کے بنیادی اصولوں کی حمایت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ہندوستان کی عالمی ساکھ، ملک کی ترقی، پرامن انتخابات کے عمل اور اسے درپیش مختلف چیلنجوں کا احاطہ کیا۔ وہیں اس موقع پر پی ایم مودی نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔