Meloni Proposes Burqa Ban: ’برقع اور نقاب پر مکمل پابندی‘، میلونی حکومت کا سخت قدم، آخر اس کے پیچھے کیا ہے وجہ؟
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی، غیر ملکی طلبہ کی تعداد محدود کرنے اور بعض والدین کے لیے اطالوی زبان سیکھنا لازمی بنانے کی تجویز پیش کی ہے
سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کے بیان مولانا محمود مدنی کا سخت ردعمل، کہا- ’’مسلمانوں کواپنی شناخت چھپانے کا مشورہ، ہجومی تشدد کا حل نہیں‘‘
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔
Bhojshala Masjid-Mandir Dispute: بھوج شالہ میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، مسلمانوں کو نماز کی اجازت، ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی برقرار
مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی ہے۔ مگر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ابھی برقرار رکھا ہے۔
UP Namaz Row: نماز سے متعلق یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پراکھلیش یادو کا پہلا ردعمل، کہا- جگہ کم ہے تو کیا پریشانی؟ جانئے پوری تفصیل
سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے یوپی میں سڑکوں پر نماز سے متعلق سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ اگر جگہ کم ہے تو کیا پریشانی ہے؟ سڑکوں پر کیا ہونا چاہئے اور کیا نہیں، اس کے لئے ضابطے اورقانون بنے ہوئے ہیں، لیکن اس موضوع پر سیاسی فائدہ لینے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔
”بنگال کی جیت ملک کی جیت ہے، بنگلہ دیشی مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہئے…“ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے پھر دیا مسلمانوں سے متعلق بیان
آسام اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی اتحاد نے شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت کی ہیٹ ٹرک کی۔ ہیمنتا بسوا سرما نے جیت کا سہرا پون کھیڑا کو دیا اور نشاندہی کی کہ بنگلہ دیشی مسلمان ووٹ دینے کے لئے تیارنہیں ہیں۔ انہوں نے بنگال میں بی جے پی کی زبردست جیت کو"ملک کی جیت" قرار دیا۔
Congress spokesperson Supriya Shrinate: سپریہ شرینت نے کہا- دہلی اور ملک کے مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پرنفرت انگیز مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو نہایت تشویشناک
سپریہ شرینت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں اور ان لوگوں کا ساتھ دیں، جو اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق خاموش رہنا مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن، بھائی چارے اور رواداری کو فروغ دے۔
Union Minister Kishan Reddy Attacks CM Revanth Reddy: ’کانگریس کا مطلب مسلمان‘، مرکزی وزیر کشن ریڈی کا تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ پر حملہ، مذہب پر مبنی ریزرویشن کے بیان پر سخت تنقید
مرکزی وزیر اور تلنگانہ بی جے پی کے صدر جی کشن ریڈی نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر شدید سیاسی حملہ کرتے ہوئے کانگریس پر مذہب کی بنیاد پر سیاست، اقلیتی خوشنودی اور سماجی انصاف کے ساتھ دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کشن ریڈی نے وزیر اعلیٰ کے مذہب پر مبنی ریزرویشن سے متعلق حالیہ بیانات اور اقدامات کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور مناسب وقت پر کانگریس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
Mohan Bhagwat’s statement on Muslims: کبھی آ کر آر ایس ایس کو دیکھو…اگر لگتا ہے…ہم مسلم مخالف ہیں…تو…‘‘، کولکاتا میں موہن بھاگوت نے کہہ دی بڑی بات
موہن بھاگوت نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عبادت کے طریقوں میں وہ الگ ہیں، لیکن ثقافت، قوم اور سماج کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی بڑی اکائی کے حصے ہیں۔ بس یہ سمجھنے سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
Dr Nusrat Parveen Will Join Service: حجاب تنازع معاملے میں بڑا اپڈیٹ: ڈاکٹر نصرت پروین جوائن کریں گی نوکری، پرنسپل نے دی وضاحت
پٹنہ میں واقع سرکاری طبی کالج و اسپتال کے پرنسپل محفوظ الرحمان نے بتایا کہ نُصرت پروین اپنی ملازمت جوائن کریں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ تنازع کے بعد نُصرت نے نوکری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ پرنسپل کے مطابق نُصرت پروین جلد ہی پٹنہ صدر اسپتال میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
Jamaat-e-Islami Hind: ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے مسلمان آگے بڑھ کر انفرادی و اجتماعی جدو جہد کریں: امیر، جماعت اسلامی ہند
جماعت اسلامی ہند کے " شعبہ برائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘ کی جانب سے ایک دوروزہ پروگرام بعنوان’ آل انڈیا کمیونل ہارمونی کو آرٹینیٹرز میٹ‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک کی تقریباً 20 ریاستوں سے زمینی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے مرد و خواتین نے شرکت کی۔





