پٹنہ: بہار کی سیاست میں ایک بار پھر گرماہٹ دیکھنے کو ملی جب ریاست کے قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے خواتین کے ساتھ ”بڑا دھوکہ“ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ہفتہ کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران خواتین، خصوصاً جیویكا دیدیوں کو مالی لالچ دے کر ووٹ حاصل کیے گئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ تیجسوی یادو نے الزام لگایا کہ انتخابات کے دوران خواتین کے بینک کھاتے کھلوائے گئے اور ووٹنگ کے وقت تک ان میں 10 ہزار روپے منتقل کیے گئے تاکہ ووٹروں کو متاثر کیا جا سکے۔ ان کے مطابق، یہ عمل جمہوری اقدار کے منافی تھا اور عوامی اعتماد کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے شکست کے خوف سے یہ اقدامات کیے اور انتخابی فائدے کے لیے سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو نہ صرف مالی ترغیبات دی گئیں بلکہ انہیں ڈرایا دھمکایا بھی گیا۔ تیجسوی کے مطابق، ووٹنگ مراکز پر کیمروں کا حوالہ دے کر خواتین کو کہا گیا کہ اگر انہوں نے مخصوص نشان پر ووٹ نہ دیا تو دی گئی رقم واپس لے لی جائے گی۔ انہوں نے اس الزام کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں آزاد اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ اپنے بیان میں تیجسوی یادو نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو انتخابات کے بعد دو لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ چھ ماہ کے اندر دوسری قسط ان کے کھاتوں میں منتقل کر دی جائے گی۔ تاہم، ان کے مطابق اب تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا، جس سے خواتین میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تقریباً 18 لاکھ پہلے سے رجسٹرڈ خواتین کو پہلی قسط نہیں ملی، جبکہ قریب 1.81 کروڑ جیویكا دیدیوں کو دوسری قسط کی ادائیگی سے محروم رکھا گیا ہے۔ تیجسوی کے مطابق، یہ صرف انتخابی فائدے کے لیے کیا گیا ایک منظم دھوکہ ہے، جس کے اثرات خواتین کے گھریلو حالات اور ان کے مستقبل پر مرتب ہو رہے ہیں۔ تیجسوی یادو نے ریاست کی مالی حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہار کا خزانہ پہلے ہی کمزور تھا، اس کے باوجود حکومت نے انتخابی فائدے کے لیے بڑے پیمانے پر رقم تقسیم کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 41 ہزار کروڑ روپے قرض لے کر بانٹے گئے، جس سے ریاست کی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوامی فلاح کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی اور ریاستی مفاد کو نظر انداز کیا۔ ان کے مطابق، اس طرح کے اقدامات نہ صرف مالی بدانتظامی کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بھی کھلواڑ ہیں۔ تیجسوی یادو کے ان بیانات کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے، جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے ان الزامات پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



