Bharat Express DD Free Dish

Digvijay Singh files complaint against Baba Ramdev: ’’اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے ’’شربت جہاد‘‘ کے نام پر مذہبی منافرت کو دیا جا رہا ہے فروغ‘‘، دگ وجے سنگھ نے بابا رام دیو کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی

سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس رام دیو کے خلاف مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے اور مذہب کی بنیاد پر گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کرے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے یوگا گرو رام دیو پر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے لوگوں میں مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے ایک شکایت درج کرائی ہے۔ منگل کو بھوپال کے ٹی ٹی نگر پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی گئی شکایت میں انھوں نے یوگا گرو پر 3 اپریل کو اپنے ایک ویڈیو کے ذریعے فرقہ وارانہ خطوط پر لوگوں میں نفرت، عداوت اور دشمنی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔

سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس رام دیو کے خلاف مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے اور مذہب کی بنیاد پر گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کرے۔ اپنی شکایت میں یوگا گرو کو ’’ویاپاری (کاروباری) رام دیو‘‘ کے طور پر مخاطب کرتے ہوئے سنگھ نے الزام لگایا کہ پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کمپنی کے مالک کے طور پر اپنے کاروبار کو بڑھانے کے مقصد سے انھوں نے 3 اپریل کو اپنے آفیشل ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کیا۔ انھوں نے شکایت میں لکھوایا ہے ’’ویڈیو میں پتنجلی کے گلاب شربت کی مارکیٹنگ کرتے ہوئے انھوں نے (رام دیو نے) کہا کہ شربت کے نام پر ایک کمپنی ہے جو شربت دیتی ہے، لیکن اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم مدارس اور مساجد کی تعمیر میں استعمال ہوتی ہے، ٹھیک ہے، یہ ان کا مذہب ہے، لیکن اگر آپ وہ شربت پیتے ہیں تو مساجد اور مدرسے بن جائیں گے اور اگر آپ پتنجلی کا گلاب شربت پئیں گے تو گروکول بنائے جائیں گے، آچاریہ کلم تعمیر کیے جائیں گے اور پتنجلی یونیورسٹی انڈین ایجوکیشن بورڈ آگے بڑھے گا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ’’شربت جہاد‘‘ بھی ہو رہا ہے، جیسے لو جہاد، ووٹ جہاد ہو رہا ہے، شربت جہاد بھی ہو رہا ہے۔‘‘

تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت درج کیا جائے مقدمہ: دگ وجے سنگھ

دگ وجے سنگھ نے کہا ’’ رام دیو کا یہ بیان مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا ہے اور دشمنی سے بھرا ہے۔ اس کا مذہبی جذبات پر منفی اثر پڑتا ہے اور یہ تعزیرات ہند 2023 کی دفعہ 196 (1) (a)، 299 اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت قابل سزا جرم ہے۔‘‘ سنگھ نے کہا کہ رام دیو نے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے مذہب اور قوم پرستی کا سہارا لے کر کروڑوں روپے کی سلطنت بنائی ہے، جب کہ پتنجلی کی بہت سی مصنوعات مقررہ معیارات پر پوری بھی نہیں اترتی ہیں اور مجاز عدالت نے ان پر پابندی لگا دی ہے۔

دگ وجے سنگھ نے مزید کہا ’’اس نے کوویڈ وبائی مرض میں بھی موقع کا فائدہ اٹھانے سے خود کو باز نہیں رکھا اور کورونا کی ویکسین بنانے کے جھوٹے وعدے کرکے پورے ملک کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور بعد میں سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد معافی مانگ لی۔ لیکن آج بھی وہ اپنے عمل سے عوام کو گمراہ کررہا ہے اور ان کے مذہبی جذبات سے کھیل رہا ہے۔‘‘

دگ وجے سنگھ نے کہا کہ مطابق پورا ملک ‘ہمدرد’ کمپنی کو جانتا ہے، جس کا نام لیے بغیر رام دیو نے نشانہ بنایا ہے۔ اور رام دیو کا ’’روح افزا‘‘ شربت کی مخالفت صرف اس وجہ سے کرنا کہ کمپنی کا مالک مسلمان ہے، نفرت انگیز تقریر کے مترادف ہے اور مذکورہ شربت کی فروخت کو ’’شربت جہاد‘‘ کہنا غیر آئینی ہے۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ’’میں ایک ہفتہ انتظار کروں گا، اگر اس وقت تک بھوپال پولس ایف آئی آر درج نہیں کرتی ہے، تو میں اس معاملے میں عدالت کا رخ کروں گا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read