حیدرآباد: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو حیدرآباد میں بی جے پی کی ملک گیر مہم ’لوک تنتر بچاؤ، انارکی ہٹاؤ‘ کے تحت منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور راہل گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس خود وینٹی لیٹر پر ہے اور وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ طویل سیاسی مقابلہ نہیں کر سکتی۔ شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ راہل گاندھی مودی کا مقابلہ کرنے کی بات چھوڑ دیں، تلنگانہ یوتھ مورچہ کا صدر بھی انہیں شکست دے سکتا ہے۔ ٹینک بنڈ پر سوامی وویکانند اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسموں کے درمیان نکالی گئی ریلی کے بعد ہزاروں کارکنوں اور شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا، ’’کانگریس پارٹی خود وینٹی لیٹر پر ہے۔ کیا یہ وینٹی لیٹر والی پارٹی مودی جی کے ساتھ میراتھن دوڑ سکتی ہے؟ راہل جی، مودی جی کو چھوڑیے، تلنگانہ یوتھ مورچہ کا میرا صدر بھی آپ کو شکست دے دے گا۔‘‘
ایس آئی آر کی مخالفت پر کانگریس کو نشانہ بنایا
امت شاہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ بنگلہ دیشی دراندازوں کو ووٹ بینک کی خاطر تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں انڈیا بلاک کی جانب سے منعقدہ ’ووٹ بچاؤ‘ ریلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ’دراندازوں کو بچاؤ‘ ریلی تھی۔ شاہ نے کہا، ’’آج حیدرآباد کی سڑکوں پر ہزاروں لوگ کھڑے ہیں۔ کل دہلی میں بھی ایک ریلی ہوئی تھی۔ راہل جی نے اسے ’ووٹ بچاؤ‘ ریلی قرار دیا، لیکن یہ ووٹ بچاؤ ریلی نہیں، بلکہ دراندازوں کو بچانے کی ریلی تھی۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس فرضی ووٹنگ کے ذریعے انتخابات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ شاہ کے مطابق، اگر کسی شخص کے نام پر دو ووٹ درج ہیں تو ان میں سے ایک کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تین کروڑ ووٹ ایسے لوگوں کے نام پر ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں اور وہ بنگلہ دیشی درانداز ہیں۔
’ہر درانداز کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کیا جائے گا‘
امت شاہ نے کہا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی ایس آئی آر کی مخالفت اس لیے کر رہے ہیں، کیونکہ مبینہ درانداز ان کے ووٹ بینک کا حصہ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہر درانداز کا نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو اور اسے ملک سے باہر بھیجا جائے۔ شاہ نے کہا، ’’راہل جی اور ریونت ریڈی جی جتنی کوشش کرنا چاہیں کر لیں، بی جے پی ہر درانداز کو ووٹر لسٹ سے نکالنے اور ملک سے باہر بھیجنے کو یقینی بنائے گی۔ صرف اسی ملک کے شہریوں کو یہاں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔‘‘ ایس آئی آر کے ذریعے بی جے پی کی انتخابی کامیابیوں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شاہ نے 2014 اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں بھی مودی کامیاب ہوئے تھے، جب ایس آئی آر نہیں تھا۔ ان کے بقول، مودی کو عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر کامیابی ملی تھی۔ انہوں نے 2024 کے بعد مہاراشٹر، ہریانہ، دہلی اور بہار میں بی جے پی کی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی سیاسی پوزیشن پر تبصرہ کیا۔
راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بحث کا چیلنج
امت شاہ نے پارلیمانی کارروائی میں خلل ڈالنے کے معاملے پر بھی اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے راہل گاندھی کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہے، جہاں ایس آئی آر سمیت متعلقہ معاملات پر بحث کی جا سکتی ہے۔ شاہ نے کہا، ’’ملک کے آئین کی ذمہ داریاں پارلیمنٹ کے ذریعے ادا کی جاتی ہیں، لیکن راہل جی آپ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے۔ میں حیدرآباد کی سرزمین سے آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ ہم پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے تیار ہیں۔ آئیے اور بحث میں حصہ لیجیے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس پارلیمنٹ میں بحث سے اس لیے گریز کرتی ہے، کیونکہ وہ بدنظمی کے ذریعے ہی خبروں میں رہنا چاہتی ہے۔
’ملک میں رہ کر عوام کے مسائل حل کرنے ہوں گے‘
امت شاہ نے راہل گاندھی کے فرضی پارلیمنٹ اجلاس کے انعقاد اور بیرون ملک دوروں پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر راہل گاندھی نے پہلے ان سے مشورہ کیا ہوتا تو وہ انہیں فرضی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم بننے کا مشورہ دیتے، کیونکہ حقیقی پارلیمنٹ میں ان کے وزیر اعظم بننے کا امکان نہیں ہے۔ شاہ نے مزید کہا کہ راہل گاندھی تین چار ماہ ملک میں رہنے کے بعد بیرون ملک چلے جاتے ہیں، جب کہ انہیں عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ریلی سے خطاب سے قبل امت شاہ نے چارمینار کے قریب واقع سری بھاگیہ لکشمی ماتا مندر میں پوجا کی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سردار پٹیل نے اس وقت نظام کو جھکنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو حیدرآباد آج ہندوستان کا حصہ نہ ہوتا۔ ریلی کے اختتام پر امت شاہ نے مارچ میں شریک بی جے پی کارکنوں سے ملاقات کی۔ پارٹی کی اس سرگرمی کو تلنگانہ میں اپنی سیاسی مہم تیز کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



