نئی دہلی: لوک سبھا میں اینٹی پیپرلیک بل پربحث کے دوران اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے مودی حکومت پرسخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کے احتجاج میں نہ غصہ تھا، نہ نفرت اورنہ ہی تشدد، بلکہ انہوں نے صرف اپنی تکلیف اورجذبات کا اظہارکیا تھا۔ طلبا کا غصہ جائزتھا، ملک نے بھی نوجوانوں کے جذبات کوسمجھا، لیکن حکومت ان کے احساسات کوسمجھنے میں ناکام رہی۔ طلبا مظاہرین پرپولیس کارروائی کا ذکرکرتے ہوئے راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں سوال کیا کہ طلبا پربربریت کا حکم کس نے دیا؟ کس کے حکم پرپیلٹ گن چلائی گئیں؟
اس دوران راہل گاندھی نے وزیرداخلہ امت شاہ کوبھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ان کے بیان پرایوان میں ہنگامہ شروع ہوگیا اورحکمراں جماعت کے اراکین نے راہل گاندھی سے معافی کا مطالبہ کیا۔ لوک سبھا اسپیکراوم برلا نے بھی راہل گاندھی کوبغیرحقائق کے سنگین الزامات نہ لگانے کی ہدایت دی۔ تاہم سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادونے راہل گاندھی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگرقائد حزب اختلاف کوئی سنجیدہ الزام لگا رہے ہیں تو حکومت کواس کا جواب دینا چاہئے۔
سڑکوں پراترا ملک کا مستقبل: راہل گاندھی
اپنے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کا مستقبل سڑکوں پراترا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ اپنی تقریرکہاں سے شروع کریں۔ جنترمنترپراحتجاج کرنے والے طلبا کے جذبات پورے ملک کے جذبات تھے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران کے بچے بھی اس احتجاج کے جذبات کوسمجھتے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگربی جے پی کے لیڈران اپنے بچوں سے پوچھیں کہ ان کے بھائی بہن کیا کررہے تھے تواس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کا مظاہرہ نہ غصہ تھا، نہ تشدد اورنہ نفرت، بلکہ یہ ملک کے نوجوانوں کی آوازتھی۔ تمام سیاسی جماعتوں کونوجوانوں کی اس آوازکا احترام کرنا چاہئے۔
#WATCH | Lok Sabha LoP Rahul Gandhi says, “…I was very excited, reassured by what the future of this country did on our streets. This was not anger, not violence, not hatred. This was a deep expression of the youth of this country of the future generation of this country and I… pic.twitter.com/FmL801J4hg
— ANI (@ANI) July 29, 2026
طلبا سچ کی تلاش کرتے ہیں: راہل گاندھی
راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طالب علم کا مقصد سچ کے لیے جدوجہد کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچائی طلبا کے لئے سب سے اہم چیزہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طلبا کے ایک پروگرام کے دوران کئی بچوں سے بات کی۔ طلبا تعلیم کے نظام اوربڑھتی ہوئی لاگت جیسے مسائل پربات کررہے ہیں۔ بچے 8 سے 10 گھنٹے پڑھائی کرتے ہیں اورکئی سال محنت کرتے ہیں۔ جس شخص میں سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے، وہی حقیقی طالب علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا نظام بہت مہنگا ہوگیا ہے اورطلبا دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کواچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کا ماننا ہے کہ حکومت میں تکبرپیدا ہوگیا ہے۔ اپنی تقریرکے دوران راہل گاندھی نے “اندھ بھکت” اور”احمق” جیسے الفاظ کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ اندھ بھکت ایک عام انسان کو خدا سمجھنے لگتے ہیں۔ اس بیان کے بعد ایوان میں ہنگامہ ہوگیا۔ حکمراں جماعت کے اراکین پارلیمنٹ نے راہل گاندھی کے بیان پراعتراض کیا۔ اس پراسپیکر اوم برلا نے انہیں بل پربات کرنے کی ہدایت دی۔
راہل گاندھی نے غیرپارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا: کرن رجیجو
مرکزی وزیربرائے پارلیمانی امورکرن رِجیجونے کہا کہ راہل گاندھی غیرپارلیمانی زبان استعمال کررہے ہیں۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے کسی کے خلاف غیرپارلیمانی زبان استعمال نہیں کی۔ کرن رجیجونے کہا کہ اگر راہل گاندھی وقاراورحدود میں رہ کربات کریں گے توان کی بات سنی جائے گی۔ بعد ازاں وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی غیرپارلیمانی لفظ استعمال ہوا ہے تواسے کارروائی سے حذف کردیا جائے۔ انہوں نے حکمراں جماعت کے اراکین سے بھی خاموش رہنے کی اپیل کی، جس کے بعد راہل گاندھی نے دوبارہ اپنی تقریرشروع کی۔
دھرمیندر پردھان صرف چہرہ تھے، تعلیم پر آرایس ایس کا قبضہ: راہل گاندھی
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام کویرغمال بنا لیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابق وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان صرف ایک چہرہ تھے، جبکہ تعلیم کی وزارت آرایس ایس چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس نے تعلیمی نظام پرقبضہ کرلیا ہے اورتمام وائس چانسلرزآرایس ایس سے وابستہ ہیں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ نجی کمپنیاں امتحانات کروا رہی ہیں اورطلبا کے خاندان حکومت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا نے اپنے خوف پرقابوپا لیا ہے اوراب وہ حکومت سے سوال پوچھنا شروع کرچکے ہیں۔ بحث کے دوران ہنگامے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کچھ وقت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

