وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو قوم سے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ سودیشی مصنوعات اپنائیں اور ’میڈ ان انڈیا‘ اشیا کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 ستمبر یعنی شاردیہ نوراتری کے پہلے دن سے نئے جی ایس ٹی اصلاحات نافذ ہو رہے ہیں، اور یہ موقع گھروں اور دکانوں کو سودیشی کی پہچان بنانے کا ہے۔
’’سودیشی‘‘ اور عوامی بچت کا میل
وزیراعظم مودی نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات عوام کے لیے ’’بچت اتسو‘‘ ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں وہی اشیا خریدنی چاہئیں جو میڈ ان انڈیا ہوں، جن میں ہمارے نوجوانوں کی محنت اور پسینہ شامل ہو۔‘‘ وزیراعظم نے بتایا کہ آمدنی ٹیکس اور جی ایس ٹی میں دی گئی چھوٹ سے عوام کو ایک سال میں 2.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بچت ہوگی۔
خود انحصاری اور ایم ایس ایم ای کا کردار
جناب مودی نے کہا کہ ترقی یافتہ بھارت کا راستہ خود انحصاری سے ہوکر گزرتا ہے اور اس میں ایم ایس ایم ای، چھوٹی صنعتوں اور کاٹیج انڈسٹریز کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جو اشیا ملک کے عوام کو چاہیے، وہ ملک کے اندر ہی تیار ہونی چاہئیں۔ جی ایس ٹی شرحوں میں کمی اور قواعد کی سادگی سے چھوٹے کاروباروں کو بڑا فائدہ ہوگا۔
’’سودیشی‘‘ سے خوشحالی کی راہ
وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔
نئی جی ایس ٹی ڈھانچے کی تفصیل
56ویں جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں منظور شدہ اصلاحات کے تحت اب صرف 5 فیصد اور 18 فیصد دو ہی سلیب رہیں گے، جبکہ عیش و عشرت اور مضر اشیا کے لیے الگ 40 فیصد شرح برقرار رہے گی۔ یہ نیا فریم ورک صنعت کاری کو فروغ دے گا، صارفین کی قیمتیں کم کرے گا اور زرعی شعبے سے لے کر آٹوموبائل، ایف ایم سی جی اور قابل تجدید توانائی تک کئی صنعتوں کو سہارا دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



