نئی دہلی: بھارت اور وینزویلا نے توانائی سمیت مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان جمعرات کو نئی دہلی میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں باہمی اقتصادی مفادات، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور مستقبل کی شراکت داری کے امکانات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) رودریندر ٹنڈن نے ایک خصوصی بریفنگ کے دوران بتایا کہ ڈیلسی روڈریگیز 3 سے 6 جون تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وزارتی وفد بھی موجود ہے، جس میں خارجہ امور، مواصلات و اطلاعات، معیشت و مالیات، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے وزراء شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ٹنڈن کے مطابق جمعرات کی صبح ڈیلسی روڈریگیز نے وزیر اعظم نریندر مودی سے حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کی، جہاں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات کے دوران وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، خارجہ سکریٹری وکرم مسری اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ بعد ازاں وینزویلا کی لیڈر کی ملاقات مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم سے بھی طے تھی تاکہ توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ وزارت خارجہ کے مطابق وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو فطری اور باہمی مفاد پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں بھارت کی اسپاٹ آئل خریداری میں وینزویلا ایک اہم سپلائر کے طور پر ابھرا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
رودریندر ٹنڈن نے کہا کہ وینزویلا بھارت کو آنے والے برسوں میں ایک مستحکم اور قابل اعتماد توانائی صارف کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف تیل کی پیداوار اور تلاش کے شعبوں میں بلکہ ریفائننگ اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں میں بھی مشترکہ کام کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے میدان میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ ملاقات کے دوران توانائی کے علاوہ دیگر اقتصادی شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کے مطابق وینزویلا قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور وہاں معدنیات، زراعت، مویشی پروری، ٹرانسپورٹ، آٹوموبائل اور دواسازی کے شعبوں میں بھارتی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع موجود ہیں۔ دونوں فریقوں نے ایسے عملی طریقوں پر غور کیا جن کے ذریعے بھارتی تجارتی ادارے وینزویلا کی منڈی میں مؤثر انداز میں داخل ہو سکیں اور نئی کاروباری شراکت داریاں قائم کی جا سکیں۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ وینزویلا کی قیادت نے اس موقع پر اس بات کا اعتراف کیا کہ بھارت نے اچھے اور مشکل دونوں ادوار میں وینزویلا کا ساتھ دیا ہے۔ وینزویلا مستقبل میں بھی بھارت کو ایک ترجیحی اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں اور موجودہ مذاکرات سے ان تعلقات کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ ڈیلسی روڈریگیز بدھ کے روز پانچ روزہ دورے پر بھارت پہنچی تھیں۔ یہ ان کا بھارت کا چھٹا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ 2015 میں وزیر خارجہ اور بعد کے برسوں میں نائب صدر کی حیثیت سے متعدد مرتبہ بھارت آ چکی ہیں۔ ان کے موجودہ دورے کا بنیادی مقصد دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

