Bharat Express DD Free Dish

Delcy Rodríguez

سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے، کیونکہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ امدادی اور بچاؤ کی ٹیمیں مسلسل سرچ آپریشن میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔

وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈیلسی روڈریگیز سے ملاقات خوش آئند رہی اور اس دوران توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بھارت اور وینزویلا نے توانائی سمیت مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان جمعرات کو نئی دہلی میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں “گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کے کردار کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اقتصادی استحکام، توانائی کے تحفظ اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ان کی آواز مزید مؤثر ہو سکے۔

ڈیلسی روڈریگز کے اس دورے کو خاص طور پر اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کے ترقیاتی ماڈل اور تکنیکی صلاحیتوں میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد بار بھارت کا دورہ کر چکی ہیں، جن میں 2015 میں بطور وزیر خارجہ اور 2019، 2023، 2024 اور 2025 میں بطور اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

رواں سال 30 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی، جس میں دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی امور اور باہمی مفاد کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ بعد ازاں جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا پہلے ہی شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ ہفتے کے روز امریکی فوج کی ایک کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیلسی روڈریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔

وینزویلا کے صدر کے ساتھ جو کارروائی کی گئی، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خودمختار ملک کے خلاف زبردستی اور اس کے صدر کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔

وینزویلا اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کسی دباؤ یا طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے کہا کہ انہوں نے امریکی حملے کے جواب میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ٹیلگرام پر یو این کو بھیجے گئے خط کو شیئر کرتے ہوئے کہا، ’’ان لوگوں کی طاقت کے سامنے کوئی بھی بزدلانہ حملہ کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ جیتیں گے۔”