Modi-Rodríguez Talks: گلوبل ساؤتھ کے مفادات کے لیے وینزویلا کے ساتھ بھارت کا قریبی تعاون ضروری: وزیر اعظم مودی
وزیر اعظم مودی نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ڈیلسی روڈریگیز سے ملاقات خوش آئند رہی اور اس دوران توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
Delcy Rodriguez India Visit: وزیر اعظم مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر روڈریگیز کے درمیان توانائی شراکت داری کے قیام پر تبادلۂ خیال: وزارت خارجہ
بھارت اور وینزویلا نے توانائی سمیت مختلف اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان جمعرات کو نئی دہلی میں ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور تجارتی تعلقات کو نئی جہت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
Delcy Rodriguez, PM Narendra Modi hold bilateral talks: پی ایم مودی اور ڈیلسی روڈریگز کے درمیان اہم ملاقات، اقتصادی و تکنیکی شراکت داری پر تفصیلی بات چیت
اس ملاقات میں “گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کے کردار کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو اقتصادی استحکام، توانائی کے تحفظ اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر ان کی آواز مزید مؤثر ہو سکے۔
PM Modi warmly received Acting President Delcy Rodriguez of Venezuela: پی ایم مودی– ڈیلسی روڈریگز کی حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات:جانئے کیا ہے وینزویلا صدر کے5 روزہ دورے کا ‘ماسٹر پلان’
ڈیلسی روڈریگز کے اس دورے کو خاص طور پر اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کے ترقیاتی ماڈل اور تکنیکی صلاحیتوں میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی متعدد بار بھارت کا دورہ کر چکی ہیں، جن میں 2015 میں بطور وزیر خارجہ اور 2019، 2023، 2024 اور 2025 میں بطور اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔
Venezuela Acting President Delcy Rodriguez To Visit India: وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز پانچ روزہ دورے پر آج آئیں گی بھارت، وزیر اعظم مودی سے اہم ملاقات متوقع
رواں سال 30 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ڈیلسی روڈریگیز کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی تھی، جس میں دونوں لیڈروں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی امور اور باہمی مفاد کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ بعد ازاں جاری مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، صحت، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔




