Bharat Express DD Free Dish

PM Modi speaks to Iranian President: وزیر اعظم مودی نے ایران کے صدر سے کی فون پر بات، حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر دیا زور

ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ہندوستان کا موقف واضح رہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی طرح کی کشیدگی کے خلاف ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے سفارت کاری کے ذریعےمسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔

ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار (22 جون) کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات کی ہے۔ اس فون کال کے دوران پی ایم مودی نے حالیہ کشیدگی پر اپنی ’’گہری تشویش‘‘ کا اظہار کیا اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی، سفارت کاری اور بات چیت پر زور دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں پی ایم مودی نے اس گفتگو کی خبر دیتےہوئے لکھا کہ ’’ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ بات کی۔ ہم نے موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی اور حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ فوری طور پر کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے آگے بڑھنے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔‘‘

واضح رہے کہ ایران کے ساتھ ہندوستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ابھی حال ہی میں ایران نے ہندوستانی طلبہ کو نکالنے کے لیے خاص طور پر ہندوستان کے لیے اپنی فضائی حدود کو کھول دیا تھا۔ ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ہندوستان کا موقف واضح رہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی طرح کی کشیدگی کے خلاف ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے سفارت کاری کے ذریعےمسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔ حکومت کے اسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے آج بھی ایران کے صدر سے بات کی اور جنگ سے گریز اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read