Iranian President Masoud Pezeshkian: ’نہ سر جھکائیں گے، نہ گھٹنے ٹیکیں گے‘، اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی دھمکی پر مسعود پزشکیان کا دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ کی دھمکیوں اور پابندیوں پر تنقید کی، کہا- ایران برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
US-Iran Relations: امریکہ سے عدم اعتماد کی فضا ختم کرنے کا مطالبہ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا-’’امریکہ اعتماد بحال کرے تو ایران امن کی راہ اختیار کرے گا‘‘
ایرانی صدر نے کہا ’’ایران اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا جب تک امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ جہاں کہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگا، وہاں ہماری بھی اسے جاری رکھنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔‘‘
Iran-US Tensions: ایرانی صدر نے انقرہ میں امریکی صدر کے بیان کا جواب دینے سے کیا انکار، پزشکیان نے ٹرمپ کے متعلق کہہ دی بڑی بات
درحقیقت بدھ کے روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو اپنی جانب سے ’ختم‘ قرار دیا تھا اور ایرانی قیادت کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔
PM Modi speaks to Iranian President: وزیر اعظم مودی نے ایران کے صدر سے کی فون پر بات، حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر دیا زور
ایران اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ہندوستان کا موقف واضح رہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی طرح کی کشیدگی کے خلاف ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے سفارت کاری کے ذریعےمسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے۔





